روس نے جاسوسی کے الزامات پر برطانوی سفارتکار کو ملک بدر کر دیا

0

ماسکو / لندن – روس اور برطانیہ کے درمیان سفارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں روس نے جاسوسی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ایک برطانوی سفارتکار کو ملک بدر کر دیا ہے۔

برطانوی دفترِ خارجہ نے روس کے اس اقدام کو "اشتعال انگیز، بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ مایوسی کی عکاسی کرتا ہے اور سفارتی آداب کی صریح خلاف ورزی ہے۔

روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق برطانوی سفارتکار، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کو روس چھوڑنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے۔ وزارت کا دعویٰ ہے کہ اسے مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ ماسکو میں تعینات برطانوی سفارت خانے کا ایک اہلکار دراصل برطانوی خفیہ ادارے سے وابستہ ہے۔

اسی تناظر میں برطانوی سفارت خانے کی نائب سربراہِ مشن، ڈینیئے دھولاکیا کو روسی وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہیں فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا۔

روسی حکام نے واضح کیا ہے کہ روس اپنی سرزمین پر "غیر اعلانیہ برطانوی انٹیلی جنس افسران” کی سرگرمیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر برطانیہ نے اس معاملے کو مزید بڑھایا تو روس کی جانب سے فیصلہ کن ردِعمل دیا جائے گا۔

دوسری جانب برطانوی دفترِ خارجہ نے روسی الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کریملن ماضی میں بھی متعدد مرتبہ برطانوی سفارتکاروں کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرتا رہا ہے۔

برطانوی حکام کے مطابق ایسے اقدامات سفارتی مشنز کے لیے ضروری بنیادی ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دوطرفہ تعلقات کو مزید کمزور کرتے ہیں۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت اس اقدام کے جواب میں اپنے ممکنہ سفارتی اور سیاسی آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر سفارتی تعلقات پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں، خصوصاً یوکرین جنگ اور یورپ میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں روس اور امریکا نے اپنے سفارت خانوں میں عملے کی تعداد بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم یورپی ممالک نے اس پیش رفت کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ موجودہ صورتحال میں روس اور برطانیہ کے تعلقات کے مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.