عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، ٹرمپ کے بیان کے بعد مارکیٹس پرسکون

0

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جبکہ سونا بھی اپنی تاریخی بلند ترین سطح سے نیچے آ گیا۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں یہ تبدیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آئی، جس سے ایران سے متعلق ممکنہ فوجی کارروائی پر سرمایہ کاروں کی بے چینی میں کمی واقع ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچرز 3.4 فیصد کمی کے بعد 64.25 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی نائمیکس کروڈ 3.4 فیصد کمی کے ساتھ 59.89 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ اس سے قبل گزشتہ سیشن میں برینٹ کروڈ 66.82 ڈالر اور نائمیکس کروڈ 62.36 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا، جو کئی ماہ کی بلند ترین سطح تھی۔

مارکیٹ میں یہ رجحان اس وقت دیکھنے میں آیا جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی سے متعلق خدشات کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاکتوں میں کمی آ رہی ہے اور اس وقت بڑے پیمانے پر سزائے موت کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں۔

تیل کے ساتھ ساتھ سونے کی قیمت میں بھی کمی واقع ہوئی۔ سونا 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,598 ڈالر فی اونس پر آ گیا، جبکہ بدھ کے روز یہ ریکارڈ 4,642.72 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا تھا۔

ادھر امریکی وال اسٹریٹ میں کمی کے اثرات ایشیائی منڈیوں تک منتقل ہو گئے، جہاں خاص طور پر ٹیکنالوجی شیئرز پر دباؤ برقرار رہا۔ سرمایہ کار تیزی سے ترقی کرنے والے چِپ اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ اسٹاکس سے نکل کر دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرتے دکھائی دیے۔

کرنسی مارکیٹ میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں جولائی 2024 کے بعد کمزور ترین سطح تک جانے کے بعد حکومتی مداخلت کے خدشات پر سنبھل گیا۔ ین 158.44 فی ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ بدھ کو یہ 159.45 تک کمزور ہوا تھا۔

جاپان میں قبل از وقت انتخابات کی قیاس آرائیوں، جن کی بعد ازاں تصدیق ہو گئی، کے باعث بانڈ مارکیٹ بھی متاثر ہوئی۔ جاپان کے 20 سالہ بانڈ کی ییلڈ 2.5 بیسس پوائنٹس کمی کے بعد 3.135 فیصد پر آ گئی، جو گزشتہ سیشن میں ریکارڈ 3.165 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں مجموعی طور پر ملا جلا رجحان رہا۔ جاپان میں نکی انڈیکس 0.9 فیصد کم ہوا، جبکہ ٹوپکس انڈیکس 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔

دوسری جانب امریکی ڈالر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رہا، ڈالر انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 99.137 پر رہا۔ جاپانی وزیرِ خزانہ ساتسوکی کاتایاما نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ غیر معمولی زرِ مبادلہ کی حرکات کے خلاف تمام ممکنہ آپشنز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.