اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، کشیدگی پر شدید ردِعمل

0

نیویارک – اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا اور ایران کے مندوبین ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے، جہاں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر سخت مؤقف اختیار کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نے کہا کہ ایران میں مظاہرین کے قتلِ عام کو روکنے کے لیے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ باتوں کے بجائے عمل پر یقین رکھتے ہیں اور ایرانی حکومت اقتدار برقرار رکھنے کے لیے جبر اور طاقت کا سہارا لے رہی ہے۔

امریکی مندوب نے مزید کہا کہ اب بہت ہو چکا، امریکا ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ایران میں تبدیلی کے مطالبے کی حمایت کرتا ہے۔

اس موقع پر ایرانی مندوب نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کسی قسم کی کشیدگی یا تصادم کا خواہاں نہیں، تاہم کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ ملک میں داعش کی طرز پر قتل و غارت کے ذریعے خانہ جنگی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ بیرونی مداخلت کا جواز بنایا جا سکے، جسے ایران کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی مداخلت اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے اور اس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھے گا۔

ادھر روسی مندوب نے امریکا کو محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ہوش کے ناخن لے اور جون 2025 جیسے المیے کو دہرانے سے گریز کرے۔

چینی مندوب نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی خطے کو گہری تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ انہوں نے کشیدگی کے خاتمے اور مسائل کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سلامتی کونسل کا یہ اجلاس عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات کو مزید نمایاں کرتا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری سفارتی اقدامات ناگزیر قرار دیے جا رہے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.