روسی صدر پوتن کی اسرائیلی وزیراعظم اور ایرانی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو، ثالثی کی پیشکش

0

ماسکو – کریملن نے کہا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ایران کے صدر مسعود پیزشکیان سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس دوران ایران میں جاری بڑے پیمانے پر مظاہروں کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا اور روس کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کی گئی۔

کریملن کے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر پوتن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ گفتگو کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے نتائج سے متعلق تفصیلات بہت جلد جاری کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر پوتن خطے میں تشدد میں کمی اور صورتحال کو سفارتی ذرائع سے قابو میں لانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔

پیسکوف کے مطابق روس کا مؤقف واضح ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی مزید کشیدگی پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اسی لیے ماسکو تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے سیاسی اور سفارتی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر پوتن کی یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران میں داخلی صورتحال کشیدہ ہے اور علاقائی سطح پر غیر یقینی کی فضا پائی جاتی ہے، جس کے باعث روس ایک بار پھر خود کو ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.