اسلام آباد – ایران میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ بدامنی کے دوران انہوں نے یونیورسٹی کیمپس میں رہتے ہوئے گولیوں کی آوازیں سنیں، جبکہ انہیں شام کے بعد ہاسٹل سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔
جمعرات کے روز ایران سے وطن واپس پہنچنے والے پاکستانی طلبہ نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وہ کیمپس تک محدود تھے، تاہم اطراف میں ہونے والے فسادات، تشدد اور ہلاکتوں کی خبریں مسلسل سننے کو ملتی رہیں۔
اصفہان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے چوتھے سال کے طالب علم شہنشاہ عباس نے بتایا کہ رات کے اوقات میں ہاسٹل کے اندر رہتے ہوئے گولیوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کو سختی سے ہدایت دی تھی کہ شام چار بجے کے بعد ہاسٹل میں ہی رہیں اور کیمپس سے باہر نہ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ کیمپس کے اندر صورتحال نسبتاً پُرسکون رہی، تاہم مقامی شہریوں سے گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں شدید تشدد، ہنگامے اور آگ زنی کے واقعات پیش آئے۔ ان کے مطابق بینکوں، مساجد اور دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا، جس سے صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی تھی۔
ایران میں جاری مظاہروں کے حوالے سے ایک بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیم نے ہلاکتوں کی تعداد 2,600 سے زائد بتائی ہے، جبکہ ایرانی قیادت 1979 کے انقلاب کے بعد بدترین اندرونی بدامنی پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اپنے آخری سال کے طالب علم ارسلان حیدر نے بتایا کہ مظاہرے عموماً دن کے اختتام پر شدت اختیار کر لیتے تھے، اسی لیے طلبہ کو کیمپس سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باعث وہ کئی دنوں تک اپنے اہلِ خانہ سے رابطہ نہیں کر سکے، تاہم بین الاقوامی کال سروس بحال ہونے کے بعد والدین کی تشویش کے باعث متعدد طلبہ وطن واپس آ رہے ہیں۔
تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ایران میں موجود تقریباً 3,500 پاکستانی طلبہ میں سے کئی نے سفارت خانے سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ ان کے اہلِ خانہ کو ان کی خیریت سے آگاہ کیا جائے۔ سفارت کار کے مطابق انٹرنیٹ بند ہونے کے باعث طلبہ مقامی فون نمبرز سے سفارت خانے کو کال کر کے پیغامات بھجوا رہے تھے۔
اصفہان میں زیرِ تعلیم پاکستانی طالبہ رمشا اکبر نے بتایا کہ بین الاقوامی طلبہ کو نسبتاً محفوظ رکھا گیا، تاہم مقامی افراد انہیں سوشل میڈیا یا سفر کے دوران ہونے والے واقعات سے آگاہ کرتے رہتے تھے۔ ان کے مطابق آنسو گیس، شیلنگ اور ہلاکتوں کی خبریں عام تھیں، جس سے طلبہ میں شدید خوف پایا جاتا تھا۔
واضح رہے کہ ایران میں جاری احتجاج کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حکومت مخالف مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کے بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں احتجاج میں قدرے کمی کے بعد امریکا نے محتاط رویہ اختیار کر لیا ہے۔ ایک ہفتے سے زائد عرصے تک جاری انٹرنیٹ بندش نے ایران میں اطلاعات کے بہاؤ کو شدید متاثر کیا۔