کینیڈا اور چین کے درمیان ابتدائی تجارتی معاہدہ، الیکٹرک گاڑیوں اور کینولا پر ٹیرف میں کمی کا اعلان
بیجنگ – کینیڈا اور چین نے ایک ابتدائی تجارتی معاہدہ طے کر لیا ہے جس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں (EVs) اور کینولا پر عائد ٹیرف میں نمایاں کمی کی جائے گی۔ یہ اعلان کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے جمعہ کے روز کیا۔ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان نئے اسٹریٹجک تعلقات کے قیام اور طویل عرصے سے موجود تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
مارک کارنی 2017 کے بعد چین کا دورہ کرنے والے پہلے کینیڈین وزیرِ اعظم ہیں۔ وہ کئی ماہ کی سفارتی کوششوں کے بعد امریکا کے بعد کینیڈا کے دوسرے بڑے تجارتی شراکت دار کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کارنی نے بتایا کہ کینیڈا ابتدائی مرحلے میں 49 ہزار تک چینی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دے گا، جن پر ’’پسندیدہ ترین قوم‘‘ (Most Favoured Nation) کی بنیاد پر 6.1 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ تاہم انہوں نے اس انتظام کی مدت کے بارے میں وضاحت نہیں کی۔
یہ فیصلہ سابق وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت کے اس اقدام کے برعکس ہے جس کے تحت 2024 میں چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا تھا، جو امریکا کی جانب سے کیے گئے اسی نوعیت کے اقدامات کے بعد سامنے آیا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں چین نے کینیڈا کو 41,678 الیکٹرک گاڑیاں برآمد کی تھیں۔
مارک کارنی نے کہا کہ یہ معاہدہ حالیہ تجارتی تنازعات سے قبل کی سطح پر واپسی کی نمائندگی کرتا ہے، تاہم اس بار یہ ایک ایسے فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے جو کینیڈا کے لیے زیادہ مواقع فراہم کرتا ہے۔
واضح رہے کہ جسٹن ٹروڈو نے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ سرکاری سبسڈی سے فائدہ اٹھانے والے چینی مینوفیکچررز کو عالمی منڈی میں غیر منصفانہ برتری حاصل ہے، جو کینیڈا کی مقامی صنعت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اس حوالے سے مارک کارنی کا کہنا تھا کہ کینیڈا میں ایک مضبوط اور مسابقتی الیکٹرک گاڑیوں کا شعبہ قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جدید شراکت داروں سے سیکھا جائے، ان کی سپلائی چینز تک رسائی حاصل کی جائے اور مقامی طلب کو فروغ دیا جائے۔
انہوں نے صاف توانائی کے ذخیرے اور پیداوار کے شعبوں میں چین کے ساتھ قریبی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس شراکت داری سے نئی سرمایہ کاری کی راہیں کھلیں گی۔
کارنی کے مطابق اس معاہدے سے کینیڈا کے آٹو موبائل سیکٹر میں چینی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے، جس سے ملک میں بہتر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور کینیڈا کو خالص صفر اخراج کے مستقبل کی جانب تیزی سے آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔