گرین لینڈ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے، حمایت نہ ملی تو ٹیرف لگا سکتے ہیں: ٹرمپ
واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطہ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اور اگر دیگر ممالک نے اس حوالے سے امریکی موقف کی حمایت نہ کی تو ان پر تجارتی ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کی اسٹریٹیجک جغرافیائی حیثیت، آرکٹک خطے میں اثرورسوخ اور قیمتی معدنی وسائل امریکا کے لیے نہایت اہم ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل نہ کیا تو ملکی سلامتی میں “بڑا خلا” پیدا ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس معاملے پر نیٹو اتحادیوں سے بات چیت جاری ہے۔
امریکی سینیٹر کرس کونز نے ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن میں دیے جانے والے زیادہ تر بیانات محض سیاسی بیان بازی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کوئی جائیداد نہیں بلکہ ایک اتحادی خطہ ہے، اور اس کے مستقبل کا فیصلہ زبردستی نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتوں نے امریکی دعوؤں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کریں گے۔
ڈنمارک نے اتحادی ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد گرین لینڈ میں فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان بھی کیا ہے۔
گرین لینڈ میں ڈنمارک کی جوائنٹ آرکٹک کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل سورن اینڈرسن نے واضح کیا کہ ان کی توجہ امریکا نہیں بلکہ ممکنہ روسی سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ“نیٹو اتحادیوں کے درمیان کسی بھی قسم کے فوجی تصادم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔”
ادھر ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ امریکی حکومت کے حالیہ مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش بدستور برقرار ہے۔
ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے گرین لینڈ جیف لینڈری نے اعلان کیا ہے کہ وہ مارچ میں گرین لینڈ کا دورہ کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ کسی ممکنہ فریم ورک پر بات آگے بڑھ سکتی ہے۔
تاہم ڈنمارک نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ
گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول ان کے لیے ایک “ریڈ لائن” ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔