شامی فوج حلب کے مشرقی علاقوں میں داخل، ڈیموکریٹک فورسز کے سینکڑوں اہلکاروں نے ہتھیار ڈال دیے

0

حلب / دمشق — شام میں ایک بڑی عسکری پیش رفت کے تحت شامی فوج نے ہفتے کے روز حلب کے مشرقی علاقوں میں باقاعدہ داخلے کا اعلان کر دیا ہے، جب کہ کرد زیرقیادت سیرین ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے سینکڑوں اہلکاروں نے خود کو حکومتی فوج کے حوالے کر دیا ہے۔

شامی فوج کے مطابق ایس ڈی ایف کے انخلا کے فوراً بعد سرکاری فورسز نے قصبہ دیر حافر سے پیش قدمی کا آغاز کیا اور دریائے فرات کے مغربی علاقوں میں داخل ہو گئیں۔

فوجی بیان میں بتایا گیا ہے کہ شامی فوج نے حلب کے مشرق میں واقع مسکنہ اور دبسی عفنان کی سمت بھی پیش رفت شروع کر دی ہے، جب کہ الجراح فوجی ہوائی اڈے پر کنٹرول حاصل کیے جانے کے واضح اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔

وزارتِ دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قصبہ دیر حافر میں فوج کی تعیناتی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔

شامی فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایس ڈی ایف کے سیکڑوں جنگجوؤں نے بغیر مزاحمت کے ہتھیار ڈال دیے اور خود کو حکومتی فورسز کے حوالے کر دیا۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق علاقے کے اطراف شامی فوج کی بھاری نفری تعینات ہے، جب کہ فوجی گاڑیاں دیر حافر اور مسکنہ کی جانب مسلسل روانہ ہو رہی ہیں۔

شامی فوج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دیر حافر میں اس وقت تک واپس نہ آئیں جب تک علاقے کو مکمل طور پر محفوظ نہ بنا لیا جائے۔

فوج کے مطابق قصبے میں بارودی سرنگوں، دھماکا خیز مواد اور جنگی باقیات کو صاف کرنے کا عمل جاری ہے۔
بیان میں یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایس ڈی ایف کے انخلا کے دوران کسی اہلکار کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

ریائے فرات پر واقع اہم تشرین ڈیم کے بارے میں تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ بھی انخلا کے معاہدے میں شامل ہے یا نہیں، تاہم اس علاقے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

وزارتِ دفاع نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ “فرات کے مغرب سے ایس ڈی ایف کے انخلا پر آج صبح سے عمل درآمد شروع ہو گا، جس کے بعد شامی فوج مرحلہ وار علاقوں میں داخل ہو گی۔”

یہ پیش رفت اس اعلان کے بعد سامنے آئی جو ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی نے ایک روز قبل بین الاقوامی ثالثوں کی مداخلت کے بعد کیا تھا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا “دوست ممالک اور ثالثوں کی اپیلوں کے پیش نظر، نیک نیتی کے اظہار اور 10 مارچ کے معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کے تحت ہم نے مشرقی حلب سے اپنی فورسز نکالنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں دوبارہ پوزیشن سنبھالی جا سکے۔”

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے حلب شہر میں شامی فوج اور ایس ڈی ایف کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں شہری بے گھر ہو گئے تھے۔

یہ جھڑپیں بالآخر اس معاہدے پر ختم ہوئیں جس کے تحت کرد فورسز نے شیخ مقصود، الاشرفیہ اور بنی زید کے علاقوں سے انخلا کیا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.