دریائے نیل تنازعہ: صدر ٹرمپ کی مصر اور ایتھوپیا کو ایک بار پھر امریکی ثالثی کی پیشکش
واشنگٹن — امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دریائے نیل پر مصر اور ایتھوپیا کے درمیان جاری دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے ایک بار پھر امریکی ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ مصر اور ایتھوپیا کے درمیان دریائے نیل کے پانی کی تقسیم سے متعلق تنازعے کو ختم کرانے کے لیے دوبارہ ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا “میں مصر اور ایتھوپیا کے درمیان دریائے نیل کے تنازعے کے حل کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔”
ڈیم کے افتتاح سے کشیدگی میں اضافہ
یہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایتھوپیا نے 9 ستمبر کو ایک بڑے آبی ڈیم کا افتتاح کیا، جس کے بعد مصر کی جانب سے شدید تحفظات سامنے آئے۔
قاہرہ کا مؤقف ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے دریائے نیل کے پانی کا بہاؤ متاثر ہو سکتا ہے، جو مصر کے لیے ایک وجودی خطرہ بن سکتا ہے کیونکہ ملک کی بڑی آبادی کا انحصار تقریباً مکمل طور پر نیل کے پانی پر ہے۔
ایتھوپیا کا مؤقف
ایتھوپیا، جو افریقہ کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، کا کہنا ہے کہ ڈیم اس کی قومی ترقی اور توانائی منصوبوں کا بنیادی حصہ ہے۔
ایتھوپین حکام کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 5 ارب ڈالر لاگت آئے گی اور یہ ڈیم دریائے نیل کو پانی فراہم کرنے والی ایک اہم معاون شاخ (ٹریبیوٹری) پر تعمیر کیا گیا ہے، جس سے ملک کو بجلی کی پیداوار میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
مصر کے خدشات
مصر نے ڈیم منصوبے کو بین الاقوامی آبی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے میں خشک سالی، پانی کی قلت اور بعض صورتوں میں سیلاب کے خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
قاہرہ کا کہنا ہے کہ ایتھوپیا نے ڈیم کی تعمیر اور پانی ذخیرہ کرنے کے مراحل پر مصر اور سوڈان کے تحفظات کو نظرانداز کیا۔
ایتھوپیا کا انکار
تاہم ایتھوپیا نے مصر کے ان تمام خدشات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ڈیم سے کسی نچلے دریا والے ملک کو نقصان نہیں پہنچے گا، اور یہ منصوبہ مکمل طور پر ترقیاتی نوعیت کا ہے۔
ٹرمپ اور مصر کے تعلقات
صدر ٹرمپ کی تازہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب وہ گزشتہ برس اکتوبر میں مصر کے دورے کے دوران صدر عبدالفتاح السیسی کی کھل کر تعریف کر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے اس موقع پر غزہ جنگ بندی معاہدے میں مصر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ صدر السیسی نے اس عمل میں امریکی کوششوں کا بھرپور ساتھ دیا۔
امریکی صدر نے دریائے نیل پر بننے والے ایتھوپین ڈیم کے حوالے سے قاہرہ کی تشویش کی حمایت بھی کی ہے، جسے خطے میں واشنگٹن کے جھکاؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
خطے کی سفارتی اہمیت
ماہرین کے مطابق دریائے نیل کا تنازعہ افریقہ کے سب سے حساس جغرافیائی و سفارتی مسائل میں شمار ہوتا ہے، جہاں کسی بھی فریق کا سخت مؤقف خطے میں عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو آئندہ دنوں میں مصر اور ایتھوپیا کے سفارتی ردعمل کی روشنی میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔