بے باک قلم کا استعارہ: عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کو بچھڑے 71 برس بیت گئے

عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی 71ویں برسی

عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کو دنیا سے رخصت ہوئے 71 برس بیت گئے۔ اردو افسانہ نگاری میں منٹو کا ذکر کیے بغیر اس صنف کی تاریخ نامکمل سمجھی جاتی ہے، جہاں انہوں نے جدید افسانے کو ایک منفرد، بے باک اور حقیقت پسندانہ رخ دیا۔

سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912ء کو برطانوی ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے انسانی نفسیات، سماجی تضادات اور معاشرتی منافقت کو اپنی تحریروں کا مرکزی موضوع بنایا۔ تقسیمِ ہند کے بعد کے حالات اور انسانی المیوں نے ان کے فن کو مزید گہرائی بخشی، جس کے نتیجے میں اردو ادب کو ایسے افسانے ملے جو آج بھی اپنی معنویت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

منٹو اپنے عہد کے حساس اور نمایاں ادیبوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ سماج کو اس کی اصل تصویر دکھانے پر یقین رکھتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں شدید تنقید، مقدمات اور مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان کی تحریروں میں معاشرتی ناانصافی، تقسیمِ زر، لاقانونیت اور انسانی حقوق کی پامالی جیسے موضوعات نمایاں طور پر اجاگر ہوتے ہیں۔

ان کے مشہور افسانوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، سیاہ حاشیے، لاؤڈ اسپیکر، گنجے فرشتے اور نمرود کی خدائی شامل ہیں، جنہیں اردو ادب کے اہم ترین افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ منٹو کی سادہ مگر اثر انگیز نثر نے انہیں صاحبِ اسلوب ادیب کے طور پر منفرد مقام دلایا۔

سعادت حسن منٹو کی زندگی اور فن پر پاکستان اور بھارت میں فلمیں بھی بنائی گئیں۔ حکومتِ پاکستان نے 2013ء میں انہیں بعد از وفات نشانِ امتیاز سے نوازا، جبکہ ان کی 50ویں برسی کے موقع پر ان کی یاد میں 5 روپے مالیت کا ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا گیا۔

ترقی پسند فکر کے حامل سعادت حسن منٹو 18 جنوری 1955ء کو لاہور میں انتقال کر گئے اور قبرستان میانی صاحب میں آسودۂ خاک ہیں، تاہم ان کا فن اور فکر آج بھی اردو ادب میں زندہ و تابندہ ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے