امریکہ میں برطانیہ کے یہودیوں کو پناہ دینے پر غور، ٹرمپ انتظامیہ کے اندر مشاورت

0

واشنگٹن / لندن – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندر مبینہ طور پر اس امکان پر غور کیا جا رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی سام دشمنی کے باعث برطانیہ چھوڑنے والے یہودی شہریوں کو امریکہ میں پناہ دی جائے۔ یہ انکشاف امریکی صدر کے ذاتی وکیل رابرٹ گارسن نے برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

رابرٹ گارسن کے مطابق انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اس معاملے پر ابتدائی بات چیت کی ہے کہ آیا برطانوی یہودیوں کو امریکہ میں بطور پناہ گزین قبول کرنے کی کوئی پالیسی بنائی جا سکتی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس نے تاحال اس معاملے پر باضابطہ مؤقف اختیار نہیں کیا اور نہ ہی گارڈین کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب دیا گیا ہے، تاہم یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپ اور امریکہ میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات اندرونی سیاست پر گہرے اثر ڈال رہے ہیں۔

49 سالہ رابرٹ گارسن، جو ماضی میں برطانیہ میں بطور بیرسٹر خدمات انجام دے چکے ہیں اور 2008 میں امریکہ منتقل ہوئے تھے، نے کہا کہ ان کے نزدیک برطانیہ اب یہودیوں کے لیے محفوظ ملک نہیں رہا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ برسوں میں برطانیہ میں سام دشمنی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کی مثال انہوں نے مانچسٹر میں ایک عبادت گاہ پر مبینہ اسلام پسند حملے اور 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو قرار دیا۔

گارسن کا کہنا تھا کہ ان واقعات کے بعد برطانوی معاشرے میں یہودی کمیونٹی خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے اور اسی تناظر میں امریکہ کو انہیں پناہ دینے کا سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔

انہوں نے کہا:
“میری نظر میں برطانیہ اب یہودیوں کے لیے محفوظ جگہ نہیں رہا۔ میں نے امریکی محکمہ خارجہ سے اس بات پر گفتگو کی ہے کہ آیا صدر ٹرمپ کو برطانوی یہودیوں کو امریکہ میں پناہ کی پیشکش کرنی چاہیے۔”

گارسن نے اس تجویز کو امریکہ کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی یہودی ایک تعلیم یافتہ، انگریزی بولنے والی اور کم جرائم سے وابستہ کمیونٹی ہے، جو امریکی معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔

ان کے بقول:
“یہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ آبادی ہے، جو مقامی زبان بولتی ہے، قانون پسند ہے اور سماجی طور پر مستحکم ہے۔”

ٹیلی گراف کو دیے گئے انٹرویو میں رابرٹ گارسن نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر پر بھی شدید تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ ان کی حکومت سام دشمنی کے بڑھتے رجحان کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ برطانیہ میں یہودیوں کے لیے کوئی روشن مستقبل نہیں دیکھتے اور ملک میں آبادیاتی تبدیلیوں نے یہ خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں 2023 کے بعد اسرائیل کے غزہ پر حملوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے، جنہیں بعض اسرائیل نواز حلقوں نے سام دشمنی سے تعبیر کیا، جبکہ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ وہ فلسطینی شہریوں کے قتل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

اسی تناظر میں گارسن ماضی میں امریکہ میں بھی ایسے مظاہروں پر سخت مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔ 2023 کے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے نیویارک اور لاس اینجلس میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف مظاہرے کرنے والوں پر الزام لگایا تھا کہ وہ “مظاہرین کے بھیس میں یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگانے والے عناصر” ہیں۔

رابرٹ گارسن اس وقت امریکی ہولوکاسٹ میموریل کونسل کے بورڈ ممبر بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی حیثیت میں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے سام دشمنی سے نمٹنے کے خصوصی ایلچی یہودا کپلون کے ساتھ بھی برطانوی یہودیوں کو ممکنہ پناہ دینے کا معاملہ اٹھایا۔

یہ تقرری اس وقت سامنے آئی تھی جب صدر ٹرمپ نے مئی میں سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں تعینات کیے گئے بورڈ ممبران کو برطرف کر دیا تھا۔

ادھر انسٹی ٹیوٹ فار جیوش پالیسی ریسرچ کی جانب سے 2025 میں جاری ایک سروے میں انکشاف ہوا کہ برطانوی یہودیوں میں عدم تحفظ کا احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

سروے کے مطابق 2025 میں برطانیہ کے 35 فیصد یہودی شہریوں نے خود کو غیر محفوظ قرار دیا، جبکہ 2023 میں یہ شرح صرف 9 فیصد تھی۔ اسی طرح 47 فیصد یہودیوں نے سام دشمنی کو ایک “انتہائی سنگین مسئلہ” قرار دیا، جو 2012 میں محض 11 فیصد تھی۔

تاہم اس ممکنہ امریکی پیشکش کے حوالے سے کئی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں، کیونکہ اکتوبر 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ 2026 کے لیے امریکہ میں پناہ گزینوں کی مجموعی تعداد صرف 7,500 تک محدود رکھی جائے گی، جن میں زیادہ تر مقامات سفید فام جنوبی افریقی شہریوں کے لیے مختص ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ تاحال واضح نہیں کہ اگر برطانوی یہودیوں کو پناہ دی جاتی ہے تو وہ اس محدود کوٹے میں کس حیثیت سے شامل کیے جائیں گے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات بلکہ مغربی اتحاد کے اندر سیاسی توازن کے لیے بھی حساس نوعیت اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یورپی ممالک پہلے ہی ٹرمپ کی سخت خارجہ پالیسی کے تناظر میں اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.