مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے فلسطینی گھروں پر حملے، چار افراد زخمی، متعدد مکانات نذرآتش
مقبوضہ مغربی کنارہ – مغربی کنارے میں اسرائیلی یہودی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی آبادی پر ایک اور پرتشدد حملے میں کم از کم چار فلسطینی زخمی ہوگئے جبکہ متعدد گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق شدت پسند یہودی آبادکاروں نے فلسطینی دیہات پر منظم حملے کیے، جن کے دوران کم از کم آٹھ فلسطینی گھروں اور دو گاڑیوں کو نذرآتش کر دیا گیا۔ حملوں کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ متاثرہ خاندانوں کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیلی میڈیا نے ان حملوں کی ریکارڈ شدہ ویڈیوز بھی نشر کر دی ہیں جن میں نقاب پوش آبادکاروں کو گھروں کو آگ لگاتے اور فلسطینی املاک کو نقصان پہنچاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد اسرائیلی سیکیورٹی نظام اور حکومتی مؤقف پر شدید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں اعتراف کیا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران یہودی قوم پرستانہ جرائم اور آبادکاروں کے تشدد کے 750 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کی جانب سے 675 حملے کیے گئے تھے، جبکہ رواں سال کے چند ہی مہینوں میں یہ تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فلسطینیوں پر حملوں میں ملوث یہودی شدت پسندوں کے خلاف قانونی کارروائی شاذ و نادر ہی کی جاتی ہے۔ بیشتر واقعات میں نہ تو گرفتاری عمل میں آتی ہے اور نہ ہی باقاعدہ تحقیقات مکمل کی جاتی ہیں۔
میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں قائم موجودہ سخت گیر حکومت فلسطینیوں پر ہونے والے حملوں کو دانستہ طور پر نظر انداز کرتی ہے، جس کے باعث آبادکار مزید بے خوف ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق فلسطینیوں پر حملوں کو وزیراعظم بن یامین نتین یاہو اور قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گوئیر کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس سے آبادکار تشدد کو بالواسطہ سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کے خدشات مزید مضبوط ہو گئے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے مغربی کنارے میں تشدد کو معمول بنا دیا ہے اور فلسطینی شہری خود کو مکمل طور پر غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہودی آبادکاروں کے حملوں سے متعلق تحقیقات میں 73 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم دلچسپی اور سیاسی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ کمی اسرائیلی عدالتی نظام کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان بن رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں پہلے ہی مغربی کنارے میں آبادکار تشدد کو منظم اور ریاستی سرپرستی یافتہ قرار دے چکی ہیں۔
فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبادکاروں کے حملوں کو نہ روکا گیا تو مغربی کنارے میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جو خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو خطرناک رخ دے سکتی ہے۔