جاپان میں قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان، وزیراعظم 23 جنوری کو ایوانِ نمائندگان تحلیل کریں گی
ٹوکیو – جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 23 جنوری کو ایوانِ نمائندگان (ایوانِ زیریں) تحلیل کریں گی، جس کے بعد ملک میں 8 فروری کو قبل از وقت عام انتخابات کرائے جائیں گے۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال کے عام پارلیمانی اجلاس کے افتتاحی روز، جمعہ کو 465 رکنی ایوانِ زیریں کو تحلیل کر دیا جائے گا۔
وزیراعظم کے مطابق عام انتخابات کے لیے ووٹنگ 8 فروری کو ہوگی، جبکہ باضابطہ انتخابی مہم 27 جنوری سے شروع کی جائے گی۔
یہ انتخابات سانائے تاکائیچی کے 21 اکتوبر کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلا قومی انتخاب ہوں گے، حالانکہ موجودہ ایوانِ زیریں کی آئینی مدت مکمل ہونے میں ابھی دو سال سے زائد عرصہ باقی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ حکومتی پوزیشن مضبوط بنانے اور عوامی مینڈیٹ کی تجدید کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ آئندہ اصلاحاتی ایجنڈے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
گزشتہ ہفتے وزیراعظم تاکائیچی نے اپنی حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور اتحادی جماعت جاپان انوویشن پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو ایوانِ زیریں تحلیل کرنے کے اپنے ارادے سے آگاہ کر دیا تھا۔
دوسری جانب سیاسی محاذ پر بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکمران اتحاد کا مقابلہ کرنے کے لیے جاپان کی آئینی جمہوری پارٹی اور کومےئیتو پارٹی — جو طویل عرصے تک ایل ڈی پی کی اتحادی رہی ہے — نے جمعرات کے روز سینٹرسٹ ریفارم الائنس کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نیا اتحاد آنے والے انتخابات میں سب سے بڑی اپوزیشن قوت کے طور پر سامنے آ سکتا ہے، جس سے جاپانی سیاست میں سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
قبل از وقت انتخابات کے اعلان کے بعد جاپان میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے، جبکہ تمام بڑی جماعتیں انتخابی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔