بھارت اور یو اے ای کے درمیان 3 ارب ڈالر کا ایل این جی معاہدہ، تجارتی و دفاعی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

0

نئی دہلی/ابوظہبی – بھارت نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی خریداری کے لیے 3 ارب ڈالر مالیت کا اہم معاہدہ کر لیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے باہمی تجارتی اور دفاعی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اس معاہدے پر دستخط یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے بھارت کے مختصر مگر اہم دو گھنٹے کے دورے کے دوران کیے گئے، جہاں انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے تفصیلی ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ چھ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو دوگنا کر کے 200 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے گا، جبکہ دفاعی شعبے میں ایک اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے قیام کی سمت بھی پیش رفت کی جائے گی۔

ایل این جی معاہدے کی تفصیلات

معاہدے کے تحت ابوظہبی کی سرکاری توانائی کمپنی ADNOC Gas بھارت کی ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (HPCL) کو آئندہ 10 برس تک سالانہ 0.5 ملین میٹرک ٹن ایل این جی فراہم کرے گی۔

ایڈنوک گیس کے مطابق اس نئے معاہدے کے بعد بھارت کے ساتھ کمپنی کے توانائی معاہدوں کی مجموعی مالیت 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان توانائی تعاون کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

دفاعی شراکت داری کی سمت پیش رفت

بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے صحافیوں کو بتایا کہ بھارت اور یو اے ای نے اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے قیام کے لیے لیٹر آف انٹینٹ (LoI) پر بھی دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی، تربیت اور مشترکہ تعاون کے نئے امکانات تلاش کیے جائیں گے۔

شیخ محمد بن زاید کے ہمراہ بھارت آنے والے اعلیٰ سطحی وفد میں یو اے ای کے وزرائے دفاع اور خارجہ بھی شامل تھے، جس سے دورے کی سفارتی اور اسٹریٹجک اہمیت واضح ہوتی ہے۔

دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی جہت

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق نئی دہلی میں ہونے والی ملاقات میں توانائی، دفاع، تجارت اور سرمایہ کاری کو دوطرفہ تعلقات کے مرکزی ستون قرار دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھارت اور یو اے ای خطے میں اقتصادی استحکام اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دیں گے۔

مبصرین کے مطابق یہ معاہدے نہ صرف بھارت کی توانائی ضروریات کو طویل المدتی بنیادوں پر تقویت دیں گے بلکہ خلیجی خطے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور دفاعی کردار کو بھی مزید مستحکم کریں گے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.