ایران میں مظاہروں پر اب تک کسی کو سزائے موت نہیں دی گئی، عدلیہ کا اعلان

0

تہران – ایران کی عدلیہ نے واضح کیا ہے کہ حکومت مخالف عوامی احتجاج کے سلسلے میں تاحال کسی بھی شخص کو سزائے موت سنانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی عدلیہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ عدالتی کارروائی ایک سخت، پیچیدہ اور طویل قانونی عمل ہے، جس میں فیصلوں تک پہنچنے میں مہینوں یا بعض اوقات سال بھی لگ سکتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق احتجاج میں شامل بعض افراد ایسے ہیں جو مبینہ طور پر غیر ملکی ایجنڈے پر کام کر رہے تھے اور ان کے تعلقات اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور امریکی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے سے جوڑے جا رہے ہیں۔

عدلیہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ عدالتی ادارے گمراہ ہو کر سڑکوں پر آنے والے افراد اور اصل اشتعال انگیزی اور منصوبہ بندی کرنے والوں کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سخت سزائیں صرف اسی صورت دی جائیں گی جب واضح، ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد دستیاب ہوں گے، اور بغیر مکمل قانونی تقاضے پورے کیے کوئی فیصلہ نہیں سنایا جائے گا۔

اسی تناظر میں ایرانی پراسیکیوٹر جنرل علی صالحی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے زیرِ حراست سیکڑوں مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

علی صالحی کا کہنا تھا کہ “یہ دعوے بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں، ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت ناقابلِ قبول ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مظاہروں کا ریاستی ردِعمل فیصلہ کن، عبرت ناک اور فوری ہوگا۔

یاد رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں واضح کیا تھا کہ ان واقعات کے ذمہ دار افراد سزا سے نہیں بچ سکیں گے ان کا کہنا تھا “فسادیوں کی کمر توڑ دی جائے گی اور ریاست اپنی رِٹ ہر صورت قائم رکھے گی۔”

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران میں جاری احتجاج اور اس پر حکومتی ردِعمل نہ صرف داخلی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی گہری توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں عدالتی کارروائی اور ممکنہ سزاؤں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.