یورپ میں افغان انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی، مرکزی ملزمان برطانیہ سے بیلجیم منتقل
لندن / برسلز یورپ میں سرگرم افغان انسانی اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف ایک بڑی بین الاقوامی کارروائی سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں نیٹ ورک کے مرکزی ملزمان کو برطانیہ سے بیلجیم منتقل کر دیا گیا ہے۔
افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق انسانی اسمگلنگ میں ملوث افغان نیٹ ورک کے سرغنہ ذیشان بنگش کو برطانیہ سے ڈی پورٹ کر کے بیلجیم کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں وہ اپنی سزا مکمل کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) اور بیلجیم پولیس کے درمیان قریبی تعاون کے تحت عمل میں آئی، جس کا مقصد یورپ میں غیر قانونی مہاجرین کی اسمگلنگ میں ملوث منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا خاتمہ تھا۔
تحقیقات کے بعد دونوں ممالک کی سیکیورٹی ایجنسیوں نے افغان اسمگلنگ نیٹ ورک کے کلیدی کرداروں کی نشاندہی کی، جس کے بعد انہیں قانونی کارروائی کے تحت بیلجیم منتقل کیا گیا۔
مرکزی ملزمان اور سزائیں
مرکزی ملزمان:
-
ذیشان بنگش
-
سیف الرحمن احمدزئی
کو دسمبر 2024 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق:
-
ذیشان بنگش کو تین سال قید
-
سیف الرحمن احمدزئی کو دس سال قید
کی سزا سنائی گئی۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق سیف الرحمن احمدزئی کو گزشتہ برس جون 2024 میں ہی برطانیہ سے ملک بدر کر کے بیلجیم کی جیل منتقل کر دیا گیا تھا، جبکہ اب نیٹ ورک کے سرغنہ ذیشان بنگش کو بھی باضابطہ طور پر بیلجیم منتقل کر دیا گیا ہے۔
برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ افغان نیٹ ورک انسانی اسمگلنگ کے ایک منظم بین الاقوامی نظام کے تحت کام کر رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق نیٹ ورک:
-
افغان مہاجرین کو
-
ایران، ترکیہ اور بلقان ممالک کے راستے
-
غیر قانونی طور پر فرانس اور بیلجیم پہنچاتا تھا
ان افراد سے ہزاروں یورو وصول کیے جاتے تھے، جبکہ سفر کے دوران مہاجرین کو شدید خطرات، غیر انسانی حالات اور مجرمانہ استحصال کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
یورپی سیکیورٹی اداروں کے مطابق افغانستان میں جاری سیاسی و معاشی بحران کے بعد انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو نہ صرف مہاجرین کی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یورپ کی داخلی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ مہینوں میں ایسے نیٹ ورکس کے خلاف مزید کارروائیاں متوقع ہیں، جبکہ سرحد پار جرائم کی روک تھام کے لیے یورپی ممالک کے درمیان انٹیلی جنس تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔