بیجنگ/کابل – چین نے افغان دارالحکومت کابل میں ایک چینی شہری کے ریستوران میں ہونے والے دھماکے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور طالبان حکام سے واقعے کی فوری، شفاف اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق حکومت نے طالبان سے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ دھماکے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ افغانستان میں چینی شہریوں اور تنصیبات کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
افغان حکام کے مطابق گزشتہ روز کابل کے ایک ریستوران میں دھماکے کے نتیجے میں ایک چینی شہری سمیت سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ واقعے کے فوری بعد افغان سیکیورٹی فورسز اور امدادی ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
داعش نے ذمہ داری قبول کر لی
دہشت گرد تنظیم داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد چین نے افغانستان میں اپنے شہریوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مؤثر حفاظتی اقدامات کی اپیل کی ہے۔
چینی حکومت کا موقف ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی شہریوں کے تحفظ کے لیے مضبوط حفاظتی انتظامات اور دہشت گردی کے خلاف فوری کارروائی لازمی ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
