ٹرمپ کی ‘امن کونسل’ پر دستخط کے لئے 60 ممالک کو دعوت بھیج دے دی، یورپی ممالک کی تشویش

0

واشنگٹن – وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی میں "امن کونسل” (Council of Peace) کے میثاق پر دستخط کرنے کی دعوت کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ یہ اقدام آئندہ جمعرات کو ڈیووس فورم کے موقع پر انجام دیا جائے گا۔

کونسل میں شمولیت اور شرائط

رپورٹس کے مطابق کم از کم 60 ممالک کو کونسل میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے، تاہم مستقل رکنیت صرف انہی ممالک کے لیے دستیاب ہوگی جو ایک ارب ڈالر سے زائد نقد رقم جمع کرائیں گے۔

وائٹ ہاؤس کی جاری کردہ فہرست میں شامل اہم شخصیات میں صدر ٹرمپ کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، ٹرمپ کے داماد اور بین الاقوامی ثالث جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، امریکی ارب پتی مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور ٹرمپ کے مشیر رابرٹ گیبریل کو بھی دعوت دی گئی ہے۔

یورپی ممالک کی تشویش

فرانس سمیت کئی یورپی ممالک نے اس کونسل کے دائرہ کار اور امریکی اختیارات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا خدشہ ہے کہ یہ کونسل اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کر سکتی ہے اور ٹرمپ کی شرائط کے تحت ایک "چھوٹی اقوام متحدہ” بن سکتی ہے جو مکمل طور پر امریکہ کے زیر اثر ہوگی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی AFP کے مطابق پیرس نے اعلان کیا ہے کہ وہ فی الحال اس کونسل میں شمولیت کا ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ میثاق میں کئی بنیادی سوالات پیدا ہو رہے ہیں اور یہ صرف غزہ کی پٹی کے معاملے تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں دیگر تنازعات تک پھیل سکتا ہے۔

کینیڈا نے بھی واضح کیا کہ وہ کوئی ادائیگی نہیں کرے گا، حالانکہ وزیر اعظم مارک کارنی نے پہلے اس دعوت کو قبول کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

کونسل کا دائرہ کار

میثاق کی کاپی کے مطابق، صدر ٹرمپ تا حیات اس کونسل کے سربراہ رہیں گے۔ کونسل کا پہلا ہدف غزہ کی پٹی میں امن قائم کرنا ہے، جس کے بعد اس کے دائرہ کار کو دیگر علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات تک بڑھانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.