بھارت کا بنگلہ دیش کو ’نان فیملی‘ ملک قرار دینے کا فیصلہ، سفارتکاروں کے اہلِ خانہ وطن واپس

0

بھارت نے بنگلہ دیش کو سفارتی تعیناتیوں کے حوالے سے ’’نان فیملی‘‘ ملک قرار دیتے ہوئے وہاں تعینات اپنے سفارتکاروں اور سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو واپس بلا لیا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے تحت اب بنگلہ دیش میں تعینات بھارتی سفارتکار اپنے بیوی بچوں کو ساتھ رکھنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق ’’نان فیملی‘‘ ملک کا درجہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ متعلقہ ملک میں سیکیورٹی خدشات یا غیر معمولی حالات کے باعث سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کی موجودگی کو محفوظ تصور نہیں کیا جا رہا۔ بھارت اس سے قبل صرف چار ممالک — پاکستان، افغانستان، عراق اور جنوبی سوڈان — کو اس فہرست میں شامل کر چکا تھا، جبکہ حالیہ فیصلے کے بعد بنگلہ دیش بھی ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔

یہ فیصلہ یکم جنوری 2026ء سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں تعینات بھارتی حکام کو ہدایت دی گئی تھی کہ ان کے اہلِ خانہ 8 جنوری تک بھارت واپس روانہ ہو جائیں۔ تاہم جن سفارتکاروں اور عملے کے بچوں کی تعلیم بنگلہ دیشی اسکولوں میں جاری تھی، انہیں وطن واپسی کے لیے اضافی سات دن کی مہلت دی گئی۔ اس کے نتیجے میں 15 جنوری تک ڈھاکہ، چٹاگانگ، کھلنا، سلہٹ اور راجشاہی میں تعینات بھارتی افسران کے خاندانوں کو مختصر وقت میں وطن واپس جانا پڑا۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے تاحال اس فیصلے کی وجوہات یا تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کیں، تاہم بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کے متعدد ذرائع نے اس اقدام کی تصدیق کر دی ہے۔

ادھر بنگلہ دیش میں بھارت کے سابق ہائی کمشنر پیناکا رنجن چکرورتی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ممکنہ طور پر فروری 2026ء میں متوقع عام انتخابات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق خدشہ ہے کہ انتخابات سے قبل سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے، جس کے باعث بھارتی ہائی کمیشن کے ملازمین اور ان کے خاندانوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

پیناکا رنجن چکرورتی نے کہا کہ عام انتخابات سے قبل اس نوعیت کا فیصلہ غیر معمولی نہیں سمجھا جانا چاہیے، خصوصاً ایسے حالات میں جب بنگلہ دیش کی بڑی سیاسی جماعت عوامی لیگ کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت نہ ملنے پر شدید سیاسی تنازع پیدا ہو چکا ہے۔ مبصرین کے مطابق بھارت کا یہ اقدام خطے میں بڑھتی سیاسی بے یقینی اور بنگلہ دیش کی داخلی صورتحال پر نئی سفارتی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.