آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانا پوری اسلامی دنیا کے خلاف جنگ تصور ہوگا، ایران
ایرانی قیادت نے سخت اور غیر معمولی مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو پوری اسلامی دنیا کے خلاف جنگ قرار دیا جائے گا۔ ایرانی حکام نے اس حوالے سے امریکا کو سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کسی اقدام کا ردعمل عالمی سطح پر سامنے آئے گا۔
ایرانی قومی سلامتی کمیشن کے مطابق اگر سپریم لیڈر پر حملہ کیا گیا تو ملک بھر کے علما جہاد کا فتویٰ جاری کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف خطوں میں شدید ردعمل پیدا ہوگا۔ کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای پر کسی بھی قسم کی کارروائی کی صورت میں پیدا ہونے والے نتائج کی مکمل ذمہ داری حملہ کرنے والوں پر عائد ہوگی۔
قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں موجود اسلام کے سپاہی اس اقدام کو براہِ راست امتِ مسلمہ کے خلاف حملہ تصور کریں گے، جس کے اثرات محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر عدم استحکام کو جنم دے سکتے ہیں۔
اس سے قبل ایرانی صدر بھی اس معاملے پر انتہائی سخت مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای پر کوئی بھی حملہ مکمل اور ہمہ گیر جنگ کا باعث بنے گا، جس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں ہوں گے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی کارروائی عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے اور بین الاقوامی نظام کو شدید عدم توازن سے دوچار کر دے گی۔ مبصرین کے مطابق ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں اور آنے والے دنوں میں عالمی سفارتی سطح پر اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔