امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کچھ بھی ہوا تو اس کا ذمہ دار ایران ہوگا اور اس صورت میں انتہائی سخت ردعمل دیا جائے گا۔ ایک امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہیں ایران کی جانب سے مسلسل قتل کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، جس کے بعد انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے واضح احکامات دیے ہیں کہ اگر انہیں کوئی نقصان پہنچا تو ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب پہلی بار اس نوعیت کی دھمکیاں سامنے آئیں تو بائیڈن انتظامیہ کو سخت ردعمل دینا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسی دھمکیاں کسی عام شہری کو بھی دی جاتیں تو وہ اس پر بھی سخت موقف اختیار کرتے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں 28 دسمبر سے مہنگائی، کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ امریکی ادارے ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک چار ہزار سے زائد افراد ہلاک اور چھ ہزار زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 26 ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ احتجاج مکمل منصوبہ بندی کے تحت کیے جا رہے ہیں اور ان کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہے، جن کا مقصد حکومت کی تبدیلی ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کو خبردار کر چکے ہیں کہ مظاہرین کو پھانسی دیے جانے کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی، تاہم بعد ازاں انہوں نے ایران کی جانب سے مبینہ طور پر بعض سزائے موت منسوخ کیے جانے کے اقدام کو سراہا بھی تھا۔