ٹرمپ نے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا، بعض عالمی طاقتیں اقوام متحدہ کے کردار پر خدشات کا شکار
ڈیووس، سوئٹزرلینڈ — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے قیام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جسے ابتدائی طور پر غزہ میں جاری نازک جنگ بندی کو مضبوط بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے، تاہم صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فورم مستقبل میں عالمی تنازعات کے حل میں ایک وسیع کردار ادا کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا، تاہم اس اقدام نے بعض عالمی طاقتوں میں تشویش پیدا کر دی ہے کہ کہیں یہ نیا فورم عالمی سفارت کاری میں اقوام متحدہ کے روایتی کردار کو کمزور نہ کر دے۔
ڈیووس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا،
“جب یہ بورڈ مکمل طور پر فعال ہو جائے گا تو ہم جو چاہیں کر سکیں گے، اور یہ سب اقوام متحدہ کے تعاون سے ہوگا۔ اقوام متحدہ کے پاس بے پناہ صلاحیت موجود ہے جو اب تک مکمل طور پر استعمال نہیں ہو سکی۔”
عالمی شمولیت پر اختلاف
ٹرمپ، جو خود اس بورڈ کی سربراہی کریں گے، نے درجنوں عالمی رہنماؤں کو اس میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس صرف غزہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دنیا کے دیگر تنازعات کے حل کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔
اب تک ترکی، مصر، سعودی عرب، قطر اور انڈونیشیا سمیت کئی علاقائی اور ابھرتی ہوئی طاقتیں اس بورڈ میں شامل ہو چکی ہیں، تاہم بڑی عالمی طاقتیں اور امریکا کے روایتی مغربی اتحادی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
امریکا کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کسی بھی مستقل رکن — روس، چین، فرانس یا برطانیہ — نے تاحال باضابطہ شمولیت کا اعلان نہیں کیا۔
فرانس نے اس منصوبے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے جبکہ برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ فی الحال اس بورڈ کا حصہ نہیں بن رہا۔ چین نے تاحال اپنے مؤقف کا اعلان نہیں کیا۔
مالی تعاون کی شرط
صدر ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ بورڈ کے مستقل ارکان کو ہر ایک ایک ارب ڈالر فنڈ میں جمع کرانا ہوگا۔ تاہم دستخطی تقریب کے دوران کسی بڑی عالمی طاقت، اسرائیل یا فلسطینی اتھارٹی کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔
اقوام متحدہ کا مؤقف
اقوام متحدہ کے ترجمان رولینڈو گومز نے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس کے ساتھ اقوام متحدہ کی شمولیت صرف اسی حد تک ہو گی جس کی اجازت سلامتی کونسل کی قرارداد دیتی ہے، جس کے تحت یہ منصوبہ غزہ امن فریم ورک کا حصہ ہے۔
بورڈ کی اہم شخصیات
بورڈ آف پیس کے ارکان میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، غزہ مذاکرات کار جیرڈ کشنر، اسٹیو وٹکوف اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہیں۔
مارکو روبیو نے کہا کہ بورڈ کی فوری ترجیح غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے، تاہم یہ فورم مستقبل میں دنیا کے دیگر تنازعات کے حل کے لیے ایک ماڈل بھی بن سکتا ہے۔
غزہ جنگ بندی کا نازک مرحلہ
جیرڈ کشنر نے بتایا کہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جائیں گے، تاہم سب سے مشکل مرحلہ حماس کی تخفیف اسلحہ ہے۔
ان کا کہنا تھا“اگر حماس غیر مسلح نہیں ہوتی تو یہی چیز اس پورے منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے گی۔”
کشنر کے مطابق آئندہ 100 دنوں میں انسانی امداد، عارضی رہائش اور بنیادی سہولیات پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی تاکہ امن عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔