ٹرمپ اور زیلنسکی کی ڈیووس میں ملاقات، روس یوکرین جنگ کے خاتمے میں وقت لگنے کا اعتراف
ڈیووس — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کے درمیان ڈیووس میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں روس یوکرین جنگ، ممکنہ جنگ بندی اور امن کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرینی صدر کے ساتھ ان کی ملاقات مثبت رہی، تاہم روس یوکرین جنگ کے خاتمے میں ابھی خاصا وقت لگ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ختم ہونی چاہیے کیونکہ اس میں روزانہ قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا جنگ بندی کی کوششوں کے تحت روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے لیے اپنے اعلیٰ حکام کو بھیج سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا،
“یہ ایک جاری عمل ہے، ہر فریق چاہتا ہے کہ جنگ ختم ہو، مگر اس کے لیے مرحلہ وار سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ یوکرینی صدر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران امن بورڈ سے متعلق کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ اور یوکرینی صدر کے درمیان ہونے والی خفیہ ملاقات کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں، اور وائٹ ہاؤس نے بھی اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی برادری روس یوکرین جنگ کے ممکنہ حل اور مستقبل کی سفارتی حکمت عملی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔