ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ، ’’غلط اندازے نہ لگائیں، انگلیاں ٹریگر پر ہیں‘‘
تہران — ایرانی پاسدارانِ انقلاب کور (IRGC) کے سربراہ جنرل محمد پاکپور نے امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ ایران مخالف مظاہروں کو بنیاد بنا کر کوئی غلط اندازہ نہ لگایا جائے، کیونکہ ایرانی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور ان کی انگلیاں ٹریگر پر رکھی ہوئی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بارہا یہ کہا جا چکا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن اب بھی کھلا رکھا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے یہ بیانات جون 2025 میں ہونے والی بارہ روزہ جنگ کے بعد مسلسل سامنے آ رہے ہیں، اور حال ہی میں ڈیووس میں بھی انہوں نے اسی مؤقف کو دہرایا۔
ایران میں 28 دسمبر سے شروع ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے دوران بھی امریکی صدر کی جانب سے ایران کو فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی جاتی رہیں، جس پر ایرانی عسکری قیادت نے شدید ردعمل دیا ہے۔
جمعرات کے روز قومی دن کے موقع پر ایرانی سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والے خطاب میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ جنرل محمد پاکپور نے کہا کہ:
“امریکا اور اسرائیل کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔ اگر انہوں نے کسی قسم کی جارحیت کی تو بارہ روزہ جنگ کے بعد انہیں اس سے کہیں زیادہ دردناک اور افسوسناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاسدارانِ انقلاب مکمل جنگی تیاری میں ہے اور تمام یونٹس سپریم لیڈر کے حکم کے منتظر ہیں۔
جنرل پاکپور کا کہنا تھا کہ ایران پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر اور سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور کسی بھی حملے کی صورت میں دشمن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جائے گا۔
واضح رہے کہ حالیہ بدامنی کے دوران مظاہرین کو کنٹرول کرنے میں پاسدارانِ انقلاب کا کردار مرکزی رہا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان ہنگاموں کے دوران اب تک 3,117 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کور پر امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، برطانیہ اور یورپی یونین کے متعدد رکن ممالک کی جانب سے پہلے ہی پابندیاں عائد ہیں، جبکہ مغربی ممالک اسے خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان خطے میں بڑھتی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بیانات کی جنگ مزید شدت اختیار کر چکی ہے۔