سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو انڈین کرکٹ کونسل نہیں بننا چاہیے اور اگر دیگر کرکٹ ممالک متحد ہو جائیں تو آئی سی سی کو فیصلہ کرنا ہی پڑے گا۔
ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ آئی سی سی ایک عالمی ادارہ ہے، کسی ایک ملک کے مفادات کے تحت فیصلے کرنا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ سیریز کے لیے ہائبرڈ ماڈل ہم نے متعارف کرایا تھا کیونکہ پاکستان ٹیم بھارت نہیں جا سکتی، اسی وجہ سے میچز دبئی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے پل آؤٹ کرنے کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کیا مؤقف اختیار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم کے لیے نیک تمنائیں ہیں۔
سابق چیئرمین پی سی بی نے قومی ٹیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی کی واپسی خوش آئند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں کھلاڑی کسی بھی ٹیم کا اثاثہ ہوتے ہیں اور ہر اسکواڈ میں ان کی موجودگی ضروری ہے۔
نجم سیٹھی نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک ضرور پہنچے گی۔
