بیلاروس کی عالمی نمبر ون ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا نے یوکرین کی مارٹا کوسٹیوک کو شکست دے کر اپنا دوسرا برسبین انٹرنیشنل ٹائٹل جیت لیا، تاہم ٹرافی تقریب میں توجہ میچ یا فتح کے بجائے ایک اور معاملے پر مرکوز رہی۔
فائنل کے اختتام پر یوکرینی کھلاڑی مارٹا کوسٹیوک نے ارینا سبالنکا سے مصافحہ نہیں کیا، جس پر شائقین اور میڈیا کی توجہ مرکوز ہو گئی۔ واضح رہے کہ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد زیادہ تر یوکرینی کھلاڑی روسی اور بیلاروسی حریفوں کے ساتھ ہینڈ شیک کرنے سے گریز کرتے آ رہے ہیں، اور یہ عمل اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
میچ کے بعد مارٹا کوسٹیوک نے برسبین میں ٹورنامنٹ منتظمین اور شائقین کا شکریہ ادا کیا، تاہم گفتگو کے دوران وہ اپنے ملک کی صورتحال بیان کرتے ہوئے جذباتی ہو گئیں۔
مارٹا کوسٹیوک کا کہنا تھا کہ
“میں ہر روز دل کے درد کے ساتھ کھیلتی ہوں۔ میرے ملک میں ہزاروں لوگ بجلی کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ میں لوگوں کو گرم پانی میسر نہیں، میری بہن تین کمبل اوڑھ کر سوتی ہے کیونکہ اس کا گھر شدید سرد ہے۔ یہ حقیقت ناقابلِ بیان حد تک تکلیف دہ ہے۔”
دوسری جانب ارینا سبالنکا کے لیے یہ برسبین ٹینس ٹورنامنٹ کا تیسرا فائنل تھا، جن میں سے وہ دو مرتبہ ٹرافی جیتنے میں کامیاب رہیں۔ ماہرین کے مطابق سبالنکا کی موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے انہیں آسٹریلین اوپن 2026 کے لیے بھی مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ فائنل نہ صرف اعلیٰ معیار کے ٹینس مقابلے کی مثال بنا بلکہ کھیل اور عالمی سیاست کے باہمی اثرات کو بھی ایک بار پھر نمایاں کر گیا۔
