افغانستان جنگ پر ٹرمپ کا بیان: برطانوی وزیراعظم کا شدید ردعمل، معافی کا مطالبہ — امریکا نے تنقید مسترد کر دی
لندن/واشنگٹن – برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے افغانستان میں نیٹو کے کردار سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو خطرناک اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے باقاعدہ معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ امریکا نے برطانوی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ درست کہتے ہیں کیونکہ نیٹو کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں امریکا نے دی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق افغانستان جنگ میں نیٹو مشن کے دوران امریکا نے دیگر تمام اتحادی ممالک سے زیادہ کردار ادا کیا۔
برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر میں نے ایسا کوئی بیان دیا ہوتا تو یقیناً معافی مانگتا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 9/11 کے بعد امریکا کا ساتھ دیتے ہوئے افغانستان جنگ میں 457 برطانوی فوجی جان سے گئے تھے۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ نیٹو افواج افغانستان میں جنگ کے دوران فرنٹ لائن سے دور رہیں، جس پر برطانیہ میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
برطانوی حکومت کے ایک سینئر وزیر نے ٹرمپ کے بیان کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیا، جبکہ کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈینوک نے اسے ’’فضول بکواس‘‘ سے تعبیر کیا۔
ادھر امریکا میں مقیم برطانوی شہزادہ ہیری بھی اس معاملے پر بول پڑے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں خدمات انجام دینے والی نیٹو افواج کی قربانیوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود افغانستان میں فوجی خدمات انجام دیں، وہاں دوست بنائے اور دوستوں کو کھویا بھی۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے والدین نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو دفن کیا اور بے شمار بچے اپنے ماں باپ کے بغیر رہ گئے۔
افغانستان جنگ سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیان نے ایک بار پھر امریکا اور اس کے قریبی اتحادی برطانیہ کے درمیان سفارتی کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔