میڈرڈ – اسپین میں اپنے مالک مکان کو خاندان سمیت بے رحمی سے قتل کرنے والے پاکستانی شہری 44 سالہ دلاور حسین کو عدالت نے مجموعی طور پر 36 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ ہولناک واقعہ دسمبر 2023 میں اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے قریب واقع قصبے موراتا دے تاجونا میں پیش آیا تھا، جہاں دلاور حسین ایک کرائے کے مکان میں مقیم تھا۔
اس گھر کے مالکان دو معمر بہنیں اور ان کا ایک معذور بھائی تھے، جن کی عمریں 70 برس سے زائد تھیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس سانحے کی بنیاد ایک جعلی آن لائن محبت کے فراڈ پر پڑی۔ دونوں بزرگ بہنیں سوشل میڈیا پر خود کو امریکی فوجی ظاہر کرنے والے افراد کے جھانسے میں آ گئیں، جنہوں نے جذباتی تعلق قائم کر کے ایک کو مردہ اور دوسرے کو بھاری وراثت کے حصول کے لیے مالی مدد کا محتاج ظاہر کیا۔
اس فراڈ کے نتیجے میں بہنوں نے نہ صرف آن لائن جعل سازوں کو رقوم منتقل کیں بلکہ اپنے کرایہ دار دلاور حسین سے بھی بڑی رقم ادھار لی۔ ملزم کے مطابق اس نے بزرگ خواتین کو تقریباً 60 ہزار یورو قرض دیا تھا جو اسے واپس نہیں مل سکا۔
فروری 2023 میں قرض کے تنازع پر دلاور حسین نے ایک خاتون کو ہتھوڑا مار کر زخمی کر دیا تھا، جس پر اسے دو سال قید کی سزا سنائی گئی، تاہم پہلی بار جرم ہونے کی بنیاد پر ہسپانوی قانون کے تحت سزا معطل کر دی گئی۔
رہائی کے بعد ملزم مسلسل قرض کی واپسی کا مطالبہ کرتا رہا، تاہم دسمبر 2023 میں اس نے لوہے کی راڈ سے حملہ کر کے دونوں بزرگ بہنوں اور ان کے معذور بھائی کو قتل کر دیا۔
قتل کے بعد لاشیں چھپانے کی غرض سے انہیں آگ لگانے کی کوشش بھی کی گئی، مگر ناکامی کے بعد دلاور حسین خود تھانے پہنچا اور اعترافِ جرم کر کے پولیس کے حوالے ہو گیا۔
دورانِ حراست 2024 میں تفتیش کے دوران پولیس نے اس پر جیل میں اپنے بلغاریائی سیل میٹ کے قتل کا الزام بھی عائد کیا، جس کا مقدمہ تاحال زیرِ سماعت ہے۔
اکتوبر 2025 میں عدالت نے دلاور حسین کو تین افراد کے قتل کے جرم میں 12، 12 سال قید کی سزائیں سناتے ہوئے مجموعی طور پر 36 سال قید کا حکم دیا۔
عدالت نے فیصلے میں ملزم کی ذہنی حالت میں بگاڑ کو سزا میں نرمی کی بنیاد قرار دیا۔ عدالت میں بیان دیتے ہوئے دلاور حسین نے معافی مانگی اور کہا کہ وہ مختلف آوازیں سنتا تھا اور واردات کے وقت مکمل ہوش میں نہیں تھا۔
ملزم نے عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔