یروشلم / برسلز —جرمنی اور اٹلی کے بعد اسپین نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت سے واضح طور پر انکار کر دیا ہے۔ اسپین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے کے مستقبل کا فیصلہ صرف فلسطینی عوام کو کرنے کا حق حاصل ہے۔
اسرائیلی اخبار ہآریتز کے مطابق جرمنی، اٹلی اور اسپین ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیش کردہ بورڈ آف پیس کی دعوت قبول کرنے سے گریز کیا ہے۔
جرمنی: موجودہ شکل میں بورڈ ناقابل قبول
اٹلی کے دارالحکومت روم کے دورے کے دوران جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ جرمنی غزہ میں امن کے لیے امریکی کوششوں کا حامی ہے، تاہم موجودہ ڈھانچے میں بورڈ آف پیس میں شمولیت ممکن نہیں۔
فریڈرک مرز نے کہا "جس شکل میں اس وقت بورڈ آف پیس قائم کیا گیا ہے، ہم آئینی وجوہات کی بنا پر جرمنی میں اس کے انتظامی ڈھانچے کو قبول نہیں کر سکتے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جرمنی امریکہ کے ساتھ متبادل اور نئے تعاوناتی فارمیٹس پر بات چیت کے لیے تیار ہے، جو نہ صرف غزہ بلکہ یوکرین جیسے دیگر عالمی تنازعات پر بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔
اٹلی: آئینی رکاوٹیں درپیش
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی بورڈ آف پیس کے حوالے سے آئینی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ کے موجودہ انتظامی اور قانونی خدوخال اطالوی آئین سے مطابقت نہیں رکھتے۔
میلونی کے مطابق”اٹلی صرف اپنے آئینی فریم ورک کے تحت ہی کسی بین الاقوامی ادارے میں شرکت کر سکتا ہے۔ موجودہ کنفیگریشن اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔”
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اٹلی اس منصوبے میں دلچسپی رکھتا ہے اور اگر شرائط میں تبدیلی کی جائے تو روم واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے صدر ٹرمپ سے بورڈ کی تشکیلِ نو (reconfiguration) پر نظرثانی کی درخواست بھی کی تاکہ اسے یورپی ممالک کے قانونی نظام سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
اسپین کا دوٹوک انکار
جرمنی اور اٹلی کے برعکس اسپین نے اس منصوبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی یونین کے خصوصی سربراہی اجلاس کے بعد برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "ہم دعوت کی قدر کرتے ہیں، لیکن ہم انکار کرتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ اسپین عالمی تنازعات کے حل کے لیے کثیرالجہتی نظام، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانون پر یقین رکھتا ہے، اس لیے وہ صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہوگا۔
سانچیز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس مجوزہ بورڈ میں فلسطینی اتھارٹی کو شامل نہیں کیا گیا، جو اسے ناقابل قبول بناتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا "غزہ اور مغربی کنارے کے مستقبل کا فیصلہ فلسطینیوں کو خود کرنا ہے، کسی بیرونی فورم کو یہ اختیار حاصل نہیں۔”
یورپی عدم دلچسپی نمایاں
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر بورڈ آف پیس کی لانچنگ تقریب کے دوران یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک غیر حاضر رہے۔ رپورٹ کے مطابق کینیڈا، برطانیہ، ہنگری اور بلغاریہ کے سوا یورپی یونین کا کوئی بڑا ملک تقریب میں شریک نہیں ہوا۔
