مصنوعی ذہانت انسانی شناخت، باہمی تعلقات اور سماجی توازن کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے، پوپ لیو چہارم

0

ویٹی کن — کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہارم نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانی شناخت، باہمی تعلقات اور سماجی توازن کے لیے سنجیدہ خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

اپنے خصوصی پیغام میں پوپ لیو چہارم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانی روابط کی جگہ لے سکتی ہے، رائے عامہ کو متاثر کر سکتی ہے اور معاشروں میں پہلے سے موجود تفریق کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

پوپ نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام دراصل اپنے تخلیق کاروں کے فکری، سماجی اور نظریاتی زاویۂ نظر کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ نظام اعداد و شمار میں موجود تعصبات کو دہرا کر انسانی سوچ کے قدرتی دھارے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا "اے آئی محض ایک تکنیکی آلہ نہیں بلکہ ایسا نظام بنتی جا رہی ہے جو انسان کے سوچنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کے طریقے پر اثر انداز ہو رہا ہے۔”

پوپ لیو چہارم کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنریٹو اے آئی تصاویر، موسیقی اور تحریر کی تیاری میں غیر معمولی مہارت حاصل کر چکی ہے، جس کے باعث کئی مواقع پر انسان اور مشین کے تخلیق کردہ مواد میں فرق کرنا ممکن نہیں رہا۔

اس ضمن میں 2023 میں سابق پوپ فرانسس کی ایک مصنوعی تصویر کے وائرل ہونے کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا، جس میں انہیں سفید پفر جیکٹ پہنے دکھایا گیا تھا، جس نے عالمی سطح پر گمراہ کن مواد کے خطرات کو نمایاں کیا۔

پوپ نے نشاندہی کی کہ مصنوعی ذہانت اب متعدد عالمی رہنماؤں اور بااثر شخصیات کا پسندیدہ ٹول بن چکی ہے۔
انہوں نے بالواسطہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی رہنما سوشل میڈیا پر کمپیوٹر سے تیار کردہ تصاویر اور مواد شیئر کر رہے ہیں، جو عوامی شعور پر اثر ڈال سکتا ہے۔

پوپ لیو چہارم نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی چند محدود عالمی کمپنیوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہوتی جا رہی ہے، جو ایک نئی قسم کی طاقت بن کر ابھر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ:

  • اے آئی حقیقت اور قیاس کے درمیان فرق کو دھندلا رہی ہے

  • بعض نظام محض شماریاتی امکانات کو مستند علم کے طور پر پیش کرتے ہیں

  • جبکہ درحقیقت یہ صرف اندازے ہوتے ہیں، قطعی سچ نہیں

اپنے خطاب کے اختتام پر پوپ لیو چہارم نے مصنوعی ذہانت کے لیے مؤثر عالمی گورننس، مشترکہ ضوابط اور بین الاقوامی قوانین تشکیل دینے پر زور دیا۔

انہوں نے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ الگورتھمز کس طرح حقیقت کے بارے میں ان کے ادراک، فیصلوں اور رویّوں کو متاثر کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ پوپ لیو چہارم گزشتہ ماہ بھی فوجی مقاصد اور ہتھیاروں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کی شدید مذمت کر چکے ہیں۔
انہوں نے اس موقع پر خبردار کیا تھا کہ "زندگی اور موت کے فیصلے مشینوں کے سپرد کرنا انسانیت کے لیے ایک سنگین اخلاقی غلطی ہوگی۔”

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.