نئی دہلی میں شیخ حسینہ واجد کے خطاب پر بنگلہ دیش کا سخت ردعمل

0

ڈھاکا — بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں بنگلہ دیش کی سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کے خطاب پر بنگلہ دیش کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور عوام کی توہین قرار دیا ہے۔

بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے اپنے سخت بیان میں بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مفرور سابق وزیرِاعظم کو سیاسی خطاب کی اجازت دینا نہ صرف بنگلہ دیش کے عوام کی توہین ہے بلکہ یہ اقدام دو طرفہ تعلقات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق اس عمل کے ذریعے ایک خطرناک سفارتی نظیر قائم کی گئی ہے، جو مستقبل میں علاقائی استحکام کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی جانب سے کی گئی آڈیو تقریر اشتعال انگیز نوعیت کی تھی، جس میں اندرونی سیاسی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر ایسے بیانات دینا بنگلہ دیش کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔

بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ جنوبی ایشیا میں باہمی احترام اور عدم مداخلت کے اصولوں کے منافی ہیں۔

حکام نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے عناصر کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہ دے جو کسی دوسرے ملک میں کشیدگی کو ہوا دے سکتے ہوں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نئی دہلی میں ہونے والی یہ تقریر اس حساس صورتحال کی عکاسی کرتی ہے جس میں جلا وطن سیاسی شخصیات کو علاقائی سیاست میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف سفارتی پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں بلکہ خطے میں عدم استحکام کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

بنگلہ دیشی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو سفارتی سطح پر سنجیدگی سے اٹھائے گی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.