گرین لینڈ میں امریکی فوجی اڈوں والے علاقوں کو ضم کریں گے، صدر ٹرمپ
واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا گرین لینڈ میں اُن علاقوں کو اپنی عملداری میں شامل کرے گا جہاں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں۔
العربیہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا گرین لینڈ کے اُن حصوں پر اپنی خودمختاری نافذ کرے گا جہاں امریکی عسکری تنصیبات موجود ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکا کے طویل المدتی دفاعی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
پینٹاگون کی دستاویز میں گرین لینڈ کو اسٹریٹجک حیثیت حاصل
اس سے قبل امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے جاری کی گئی ایک اہم دستاویز میں انکشاف کیا گیا تھا کہ روس بدستور نیٹو کے مشرقی رکن ممالک کے لیے ایک مستقل مگر قابلِ کنٹرول خطرہ رہے گا۔
دستاویز کے مطابق پینٹاگون صدر ٹرمپ کو ایسے اسٹریٹجک آپشنز فراہم کرے گا جن کے ذریعے دنیا بھر میں، بشمول گرین لینڈ، اہم فوجی اور تجارتی مقامات تک امریکا کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
پینٹاگون کا مؤقف ہے کہ مستقبل کی امریکی دفاعی حکمتِ عملی کا مرکز ایسے جغرافیائی مقامات ہوں گے جو عالمی طاقت کے توازن، بحری راستوں اور سکیورٹی نیٹ ورک کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
گرین لینڈ کی بڑھتی جغرافیائی اہمیت
ماہرین کے مطابق آرکٹک خطہ، خصوصاً گرین لینڈ، سرد جنگ کے بعد ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک مقابلے کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں امریکا، روس اور چین اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کے لیے سرگرم ہیں۔
امریکی صدر کے حالیہ بیان کو اسی عالمی طاقت کی نئی صف بندی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس کے خطے اور نیٹو اتحاد پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔