بھارتی یومِ جمہوریہ پر کشمیری عوام کا یومِ سیاہ، مزاحمت کی علامت بن گیا
مظفرآباد — بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقع پر کشمیری عوام کی جانب سے یومِ سیاہ منانا ایک بار پھر ان کی سیاسی مزاحمت اور جدوجہدِ آزادی کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔
26 جنوری کو بھارت میں یومِ جمہوریہ منایا جاتا ہے، تاہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس دن کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کشمیری عوام کے نزدیک یہ تاریخ 26 جنوری 1950 کو ریاستِ جموں و کشمیر پر بھارتی آئین کے غیرقانونی نفاذ کی یاد دہانی ہے، جسے وہ اپنی متنازع حیثیت کے خلاف اقدام قرار دیتے ہیں۔
ہر سال اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن، پُرامن مظاہرے اور احتجاجی سرگرمیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ رواں برس بھی کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔
دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے یومِ جمہوریہ کے موقع پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی نمائش کے اعلان کو بھی کشمیری حلقوں نے طاقت کے مظاہرے سے تعبیر کرتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اسی سلسلے میں آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں ڈسٹرکٹ کمپلیکس سے آزادی چوک تک بھارت مخالف احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں، طلبہ، وکلاء، سیاسی و سماجی کارکنوں اور مختلف تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
شرکاء نے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے میں کردار ادا کرے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ بھارتی یومِ جمہوریہ کشمیری عوام کے لیے جشن کا دن نہیں بلکہ غلامی، سیاسی جبر اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کی علامت ہے، جس کے خلاف کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔