ٹرمپ کی دھمکی کے بعد کینیڈا کا چین کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدہ نہ کرنے کا واضح اعلان

0

اوٹاوا — کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ کینیڈا کا چین کے ساتھ کسی بھی قسم کے فری ٹریڈ معاہدے پر دستخط کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

ایک سرکاری بیان میں وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ چین کے ساتھ حالیہ معاہدہ صرف چند مخصوص شعبوں میں ٹیرف میں محدود کمی تک ہے، جسے کسی صورت آزاد تجارتی معاہدہ (فری ٹریڈ ڈیل) قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کینیڈا نہ صرف چین بلکہ کسی بھی نان مارکیٹ اکانومی کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ ممکنہ تجارتی تعاون کی صورت میں کینیڈا پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ اگر کینیڈین وزیراعظم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ چینی مصنوعات کو امریکا پہنچانے کے لیے کینیڈا کو چین کا “ڈراپ پورٹ” بنا سکتے ہیں تو وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہیں۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ چین بالآخر کینیڈا کو معاشی طور پر مکمل طور پر نگل جائے گا، جس کے نتیجے میں کینیڈا کے کاروباری ڈھانچے، سماجی نظام اور طرزِ زندگی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مارک کارنی کا یہ واضح مؤقف دراصل واشنگٹن کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش ہے کہ اوٹاوا چین کے ساتھ ایسا کوئی تجارتی راستہ اختیار نہیں کرے گا جو امریکا کی معاشی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیان سے شمالی امریکا میں جاری تجارتی کشیدگی، چین۔امریکا مسابقت اور کینیڈا کی خارجہ و معاشی پالیسی کے حساس توازن کی عکاسی ہوتی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.