بھارت: مسوری میں بابا بلھے شاہ سے منسوب تاریخی درگاہ کی بے حرمتی، مذہبی کتب نذرِ آتش

0

مسوری (اترکاشی) — بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ کے شہر مسوری میں تقریباً ایک صدی قبل صوفی شاعر بابا بلھے شاہ کی یاد میں قائم کی گئی تاریخی درگاہ کی بے حرمتی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر مختلف حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نامعلوم افراد نے درگاہ میں توڑ پھوڑ کی، جبکہ مرکزی حصے میں قائم لائبریری میں موجود مذہبی کتب کو آگ لگا دی گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور رات کے اندھیرے میں درگاہ میں داخل ہوئے اور ہتھوڑوں اور لوہے کی راڈوں کی مدد سے عمارت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ واقعے کے دوران درگاہ کی دیواروں پر اشتعال انگیز نعرے بھی تحریر کیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے درگاہ میں موجود عطیات کے ڈبے سے نقد رقم بھی نکال لی۔

ابتدائی طور پر مقامی پولیس نے واقعے پر کسی قسم کی فوری کارروائی سے گریز کیا، جس پر عوامی سطح پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ سوشل میڈیا پر پولیس کے طرزِعمل پر تنقید کے بعد مقامی انتظامیہ نے مقدمہ درج کیا۔

پولیس کے مطابق تین افراد — ہریوم، شِوا یون اور شرَدھا — کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جبکہ اس کے ساتھ 25 سے 30 نامعلوم افراد کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ تاہم تاحال کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔

دوسری جانب ہندو رکھشا دل کے مقامی سربراہ للت شرما نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا، جس میں انہوں نے متنازع اور اشتعال انگیز الفاظ استعمال کیے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پوسٹس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ بابا بلھے شاہ اٹھارہویں صدی کے معروف صوفی شاعر، فلسفی اور انسان دوست مفکر تھے، جن کی تعلیمات محبت، رواداری، انسانیت اور وحدتِ وجود کے گرد گھومتی ہیں۔

بابا بلھے شاہ کا مرکزی مزار پاکستان کے شہر قصور کے قریب واقع ہے، جہاں ہر سال ان کا عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے، تاہم برصغیر کے مختلف علاقوں بشمول بھارت میں بھی ان سے منسوب درگاہیں اور یادگاری مقامات موجود ہیں۔

انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق یہ واقعہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں اور صوفی ورثے کو درپیش بڑھتے ہوئے تحفظ کے مسائل کی ایک تشویشناک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.