جاپان: خاتون فوجی رینا گونوئی کو جنسی زیادتی کے مقدمے میں حکومت سے ہرجانہ

0

ٹوکیو — جاپان کی گراؤنڈ سیلف ڈیفنس فورس کی سابقہ افسر رینا گونوئی نے 2021 میں تربیتی مشق کے دوران ساتھی فوجی اہلکاروں کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے تھے، جن پر سنجیدہ کارروائی نہ ہونے کے بعد انھوں نے سول عدالت میں حکومتِ جاپان سمیت متاثرہ فوجیوں کو فریق بناتے ہوئے مقدمہ دائر کیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق رینا گونوئی نے دعویٰ کیا کہ تین مرد ساتھی فوجیوں نے تربیتی مشق کے دوران ان پر جنسی حملہ کیا۔ ابتدائی طور پر ان کی شکایت سرکاری سطح پر درج کی گئی، لیکن اعلیٰ حکام نے اس پر کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا۔

خاتون فوجی کی ویڈیو 2022 میں یوٹیوب پر وائرل ہوئی، جس سے عوامی حمایت میں اضافہ ہوا اور انصاف کے لیے احتجاجی مہم شروع ہوئی۔ سوشل میڈیا پر ایک پٹیشن پر ایک لاکھ سے زائد صارفین نے دستخط کیے۔

شدید عوامی دباؤ کے بعد فوجی عدالت نے 2023 میں تین اہلکاروں کو جنسی زیادتی کے الزام میں سزا سنائی، تاہم یہ سزا دو سال قید کی تھی جسے چار سال کی معطلی کے ساتھ معطل رکھا گیا، یعنی وہ عملی طور پر جیل نہیں گئے۔

بعد ازاں رینا گونوئی نے سول عدالت میں حکومت جاپان سے مصالحت کا مطالبہ کیا، جس پر حکومت نے اپنی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کو مصالحت کی پیشکش کی۔ خاتون فوجی نے مصالحت نامہ قبول کرتے ہوئے دستخط کیے تاکہ ملکی فوج کی بدنامی سے بچا جا سکے۔

حکومت جاپان نے رینا گونوئی کو 1.6 ملین ین (تقریباً 10,400 امریکی ڈالر) بطور ہرجانہ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم ملزم فوجی اہلکار نہ تو متاثرہ خاتون سے معافی مانگیں گے اور نہ ہرجانے کی رقم ادا کریں گے۔ ہرجانے کی رقم حکومت کی جانب سے براہِ راست متاثرہ خاتون کو فراہم کی جائے گی اور اس طرح سول مقدمہ مکمل طور پر ختم ہو گیا۔

رینا گونوئی نے اس فیصلے کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جاپان میں فوج میں خواتین کے تحفظ اور جنسی زیادتی کے خلاف انصاف کے لیے اہم قدم ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کیس جاپان میں فوجی خواتین کے حقوق کے تحفظ اور نظامِ انصاف میں شفافیت کے لیے ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.