ایران پر حملہ ہوا تو ہم بھی نشانہ بنیں گے، حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم کی وارننگ
بیروت — لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف تہران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے بھر میں عسکری تصادم کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نعیم قاسم نے پیر کے روز ایران سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقدہ ریلی کے حامیوں سے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ تہران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا براہِ راست نشانہ حزب اللہ اور اس کے اتحادی بھی بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا “ہم ایسی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں جو ہمارے درمیان فرق نہیں کرتی۔ کسی بھی ممکنہ حملے میں ہمیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اور ہم اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔”
حزب اللہ سربراہ نے واضح کیا کہ تنظیم کسی بھی ممکنہ صورتحال میں اپنے ردِعمل کا وقت اور طریقہ خود طے کرے گی، تاہم انہوں نے یہ بھی دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حزب اللہ اس تنازع میں غیر جانبدار نہیں رہے گی۔
نعیم قاسم نے خبردار کیا کہ “اگر اس بار ایران کے خلاف نئی جنگ چھیڑی گئی تو یہ پورے خطے کو بھڑکا دے گی۔”
سیاسی مبصرین کے مطابق حزب اللہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور کسی بھی ممکنہ عسکری اقدام کے اثرات علاقائی سطح پر پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات خطے میں طاقت کے توازن، اتحادی نظام اور ممکنہ جنگی منظرنامے کی سنگینی کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔