امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ: ایران میں حکومت کی گرفت 1979 کے بعد سب سے کمزور، نیویارک ٹائمز

0

واشنگٹن / نیویارک – امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو موصول ہونے والی متعدد خفیہ انٹیلی جنس بریفنگز میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں حکومت کی گرفت نمایاں طور پر کمزور ہو چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کا تجزیہ ہے کہ

ایرانی حکومت کی اقتدار پر گرفت 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے کمزور مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ یہ خفیہ بریفنگز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ ایران میں حالیہ مظاہروں کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے بعد ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

مظاہروں میں ہزاروں ہلاکتیں، طاقت کے استعمال پر غور

رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد واشنگٹن میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا موجودہ حالات میں طاقت کا استعمال کیا جانا چاہیے یا نہیں۔

اسی تناظر میں امریکا نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

امریکی بحری بیڑہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز USS ابراہم لنکن اور اس کے ہمراہ جنگی جہاز اضافی امریکی افواج کے ساتھ خطے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

اگرچہ یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ حتمی طور پر کون سا فیصلہ کریں گے، تاہم امریکی انتظامیہ کے اندر موجود سخت گیر (عقابی) مشیر فوجی کارروائی کے حق میں دباؤ ڈال رہے ہیں۔

لنڈسے گراہم کا کھلا بیان: مقصد حکومت کا خاتمہ ہے

صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں واضح الفاظ میں کہا "مقصد حکومت کو ختم کرنا ہے۔وہ آج قتل روک سکتے ہیں، لیکن اگر وہ اگلے مہینے بھی اقتدار میں رہے تو دوبارہ یہی کریں گے۔”

بعد ازاں سینیٹر لنڈسے گراہم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک علیحدہ پیغام میں کہا "تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ درست فیصلہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے جو امریکا کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمارے مشترکہ مقصد کے لیے قربانیاں دیتے ہیں۔تاریخ یہ بھی سکھاتی ہے کہ برائی کو جگہ نہیں دی جا سکتی — اسے شکست دینا ضروری ہے۔”

خطے میں نئی جنگ کے خدشات

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا نے ایران کے خلاف براہِ راست عسکری اقدام کیا تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل سکتے ہیں، جہاں پہلے ہی اسرائیل، لبنان، یمن اور خلیجی خطہ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔

ایران سے متعلق امریکی انٹیلی جنس رپورٹس اور واشنگٹن میں بڑھتی جنگی گفتگو نے ایک بار پھر علاقائی تصادم کے خدشات کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.