قیدیوں کی رہائی پر امریکا سے مذاکرات جاری ہیں، کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا: امارتِ اسلامیہ افغانستان

0

کابل – امارتِ اسلامیہ افغانستان (IEA) نے کہا ہے کہ امریکی قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، تاہم تاحال کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان میں امن کے لیے امریکا کے سابق نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے رواں ماہ کے آغاز میں ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا تھا کہ دو امریکی شہری اب بھی امارتِ اسلامیہ کی حراست میں موجود ہیں۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق کولوراڈو سے تعلق رکھنے والے 64 سالہ امریکی پروفیسر ڈینس کوئل کو کابل میں امارتِ اسلامیہ کی سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا تھا، اور ان کی حراست کو اب ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔

پیر کے روز نیویارک ٹائمز نے امارتِ اسلامیہ کے چیف ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ افغان حکومت نے دو امریکی قیدیوں کے بدلے گوانتاناموبے میں قید آخری افغان قیدی محمد رحیم افغانی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

محمد رحیم افغانی سن 2008 سے امریکی فوجی جیل گوانتاناموبے میں قید ہیں اور انہیں امریکی تحویل میں موجود آخری افغان قیدی قرار دیا جاتا ہے۔ اگرچہ ستمبر 2025 کے اواخر میں ان کی ممکنہ رہائی سے متعلق اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم یہ معاملہ اب تک حل طلب ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے سی بی ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“مذاکرات واقعی ہو چکے ہیں اور اب بھی جاری ہیں، لیکن دونوں فریق ابھی تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ امارتِ اسلامیہ امریکا کے ساتھ بات چیت کے عمل کے لیے پرعزم ہے، تاہم افغان قیدیوں کو امریکا نے غلط طور پر حراست میں رکھا ہوا ہے۔

ترجمان کے مطابق:
“ان قیدیوں کی حالت اور ان کے اہلِ خانہ کی مشکلات اس اذیت کی عکاس ہیں جس سے برسوں سے متعدد زیرِ حراست افراد گزرتے رہے ہیں۔”

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.