جواد احمد نے پاکستانی گلوکاروں پر پیسے کی ہوس کا الزام عائد کر دیا

جواد احمد نے پاکستانی گلوکاروں پر پیسے کی ہوس کا الزام عائد کر دیا لاہور — معروف پاکستانی گلوکار اور سیاستدان جواد احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی میوزک انڈسٹری میں زیادہ تر گلوکاروں میں پیسے کا لالچ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، جو فن اور مداحوں دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ جواد احمد نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی، جہاں انہوں نے موسیقی، شہرت، معاوضوں اور موجودہ میوزک کلچر پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ پوڈکاسٹ کے میزبان نعیم حنیف نے گفتگو کے دوران کہا کہ آج کے دور میں ملک میں زمین سستی جبکہ گانا مہنگا ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق راحت فتح علی خان لاہور میں ایک شو کے لیے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے جبکہ بیرونِ ملک شو کے لیے 3 کروڑ روپے تک معاوضہ وصول کرتے ہیں، جبکہ عاطف اسلم لاہور میں شو کے لیے 3 کروڑ روپے اور بیرونِ ملک پرفارمنس کے لیے تقریباً 2 لاکھ ڈالرز لیتے ہیں۔ یہ بات سن کر جواد احمد نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ اعداد و شمار سن کر بے حد ہنسی آ رہی ہے کیونکہ ان کی اپنی زندگی اس کے بالکل برعکس رہی ہے۔ انہوں نے کہا: “میں نے اپنے سیاسی کیریئر کے لیے موسیقی کا کیریئر قربان کیا، مجھے پیسے کا کوئی لالچ نہیں۔ مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے گلوکار پیسے کے اتنے حریص کیوں ہو گئے ہیں۔” جواد احمد کا کہنا تھا کہ میوزک انڈسٹری دراصل ایک ایسی مارکیٹ ہے جہاں فنکار کو اپنے مداحوں کے لیے ہر وقت دستیاب رہنا چاہیے۔ انہوں نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستانی گلوکاروں کی کیسٹیں ریکارڈ تعداد میں فروخت ہوتی تھیں، یہاں تک کہ بھارتی گلوکار بھی اس کامیابی پر حیران رہ جاتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی گلوکار دیہات اور چھوٹے شہروں میں اکثر مفت پرفارم کرتے تھے تاکہ عام لوگ بھی موسیقی سے لطف اندوز ہو سکیں۔ جواد احمد نے موجودہ گلوکاروں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنا معاوضہ کم رکھنا چاہیے تاکہ ہر طبقے کا مداح انہیں سن سکے، کیونکہ اصل میں فنکار کو بڑا بنانے والے یہی مداح ہوتے ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج کے بیشتر گلوکاروں کی مارکیٹ صرف شادیاں اور کارپوریٹ سیکٹر تک محدود ہو چکی ہے، اور وہ صرف اشرافیہ کے لیے گاتے ہیں، جو کسی بھی فنکار کے لیے صحت مند رویہ نہیں۔

لاہور — معروف پاکستانی گلوکار اور سیاستدان جواد احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی میوزک انڈسٹری میں زیادہ تر گلوکاروں میں پیسے کا لالچ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، جو فن اور مداحوں دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

جواد احمد نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی، جہاں انہوں نے موسیقی، شہرت، معاوضوں اور موجودہ میوزک کلچر پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

پوڈکاسٹ کے میزبان نعیم حنیف نے گفتگو کے دوران کہا کہ آج کے دور میں ملک میں زمین سستی جبکہ گانا مہنگا ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق راحت فتح علی خان لاہور میں ایک شو کے لیے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے جبکہ بیرونِ ملک شو کے لیے 3 کروڑ روپے تک معاوضہ وصول کرتے ہیں، جبکہ عاطف اسلم لاہور میں شو کے لیے 3 کروڑ روپے اور بیرونِ ملک پرفارمنس کے لیے تقریباً 2 لاکھ ڈالرز لیتے ہیں۔

یہ بات سن کر جواد احمد نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ اعداد و شمار سن کر بے حد ہنسی آ رہی ہے کیونکہ ان کی اپنی زندگی اس کے بالکل برعکس رہی ہے۔انہوں نے کہا “میں نے اپنے سیاسی کیریئر کے لیے موسیقی کا کیریئر قربان کیا، مجھے پیسے کا کوئی لالچ نہیں۔ مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے گلوکار پیسے کے اتنے حریص کیوں ہو گئے ہیں۔”

جواد احمد کا کہنا تھا کہ میوزک انڈسٹری دراصل ایک ایسی مارکیٹ ہے جہاں فنکار کو اپنے مداحوں کے لیے ہر وقت دستیاب رہنا چاہیے۔ انہوں نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستانی گلوکاروں کی کیسٹیں ریکارڈ تعداد میں فروخت ہوتی تھیں، یہاں تک کہ بھارتی گلوکار بھی اس کامیابی پر حیران رہ جاتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی گلوکار دیہات اور چھوٹے شہروں میں اکثر مفت پرفارم کرتے تھے تاکہ عام لوگ بھی موسیقی سے لطف اندوز ہو سکیں۔

جواد احمد نے موجودہ گلوکاروں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنا معاوضہ کم رکھنا چاہیے تاکہ ہر طبقے کا مداح انہیں سن سکے، کیونکہ اصل میں فنکار کو بڑا بنانے والے یہی مداح ہوتے ہیں۔

انہوں نے تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج کے بیشتر گلوکاروں کی مارکیٹ صرف شادیاں اور کارپوریٹ سیکٹر تک محدود ہو چکی ہے، اور وہ صرف اشرافیہ کے لیے گاتے ہیں، جو کسی بھی فنکار کے لیے صحت مند رویہ نہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے