یورپی یونین کی ایران پر نئی پابندیاں، وزیر داخلہ سمیت 15 افراد اور 6 ادارے فہرست میں شامل
برسلز — یورپی یونین نے ایران پر اندرونی معاملات میں جبر، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور روس کی مدد کے الزامات کے تحت نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ پابندیوں کی تازہ فہرست میں ایرانی وزیر داخلہ سمیت 15 افراد اور 6 ادارے شامل ہیں۔
یورپی کمیشن نے یورپین کونسل کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات ایران میں مظاہرین کے خلاف مسلسل اور وحشیانہ کریک ڈاؤن کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق ایرانی حکومت کی جانب سے شہری آزادیوں کو کچلنے کے عمل پر یورپی یونین خاموش نہیں رہ سکتی۔
اثاثے منجمد، سفری پابندیاں نافذ
نئی پابندیوں کے تحت فہرست میں شامل افراد اور اداروں کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں، یورپی یونین میں سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ انہیں کسی بھی قسم کے فنڈز یا معاشی وسائل فراہم کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔
یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کی اندرونی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر جبر کا سلسلہ جاری رہا تو مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
روس کو ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی کی فراہمی کا الزام
یورپین کونسل نے ایران کو ڈرونز اور میزائلوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے مزید اجزاء اور ٹیکنالوجیز کی برآمد، فروخت، منتقلی یا فراہمی پر عائد پابندیوں میں توسیع کر دی ہے۔ کونسل کے مطابق ایران یہ سامان روس کو فراہم کر رہا ہے، جو یوکرین کے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے میں استعمال ہو رہا ہے۔
اسی تناظر میں ایران کے ڈرون اور میزائل پروگرام میں ملوث ہونے کے الزام پر مزید 4 افراد اور 6 اداروں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
کایا کلاس کا سخت مؤقف
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کلاس نے کہا کہ تازہ پابندیاں ایرانی حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ عوامی آزادیوں کو دبانے کے اقدامات کے بین الاقوامی نتائج ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن کے ذمہ داروں، جن میں وزیر داخلہ بھی شامل ہیں، کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔ کایا کلاس نے ایران کو روس کی ساتھی آمریت قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تہران یوکرین میں جاری غیر قانونی جنگ میں ماسکو کی عملی مدد کر رہا ہے۔
یورپی خارجہ سربراہ کے مطابق “جو حکومتیں اپنے ہی عوام کو کچلتی ہیں اور سرحدوں سے باہر جارحیت کی حمایت کرتی ہیں، وہ یورپی یونین کی پابندیوں سے نہیں بچ سکتیں۔”