واشنگٹن – ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان سمیت 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ معطل کرنے کے فیصلے کو امریکی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
شہری حقوق کی تنظیموں کے ایک اتحاد نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں امریکی محکمہ خارجہ کے خلاف باقاعدہ مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ اقدام امریکی امیگریشن نظام کی دہائیوں پر محیط قانونی اور انتظامی بنیادوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ویزہ پروسیسنگ کی اجتماعی معطلی نہ صرف امتیازی سلوک کے زمرے میں آتی ہے بلکہ یہ امریکی قوانین، آئینی اصولوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بھی متصادم ہے۔
شہری حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ پالیسی ہزاروں خاندانوں کو متاثر کر رہی ہے، جن کے امیگریشن کیسز طویل عرصے سے زیرِ التوا ہیں، جبکہ اس فیصلے سے قانونی امیگریشن کا عمل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ویزہ معطلی کے فیصلے کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور محکمہ خارجہ کو امیگریشن قوانین کے مطابق ویزہ درخواستوں کی معمول کی کارروائی بحال کرنے کا حکم دیا جائے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے تاحال مقدمے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر عدالت نے درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیا تو یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔
