سلامتی کونسل کی بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت، ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ
اقوام متحدہ — اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مختلف مقامات پر ہونے والے حالیہ مہلک دہشت گرد حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر سے جاری ایک پریس بیان میں 15 رکنی سلامتی کونسل نے کہا کہ ان قابلِ نفرت دہشت گرد کارروائیوں کے نتیجے میں 48 پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے، جن میں 31 عام شہری شامل تھے، جبکہ جاں بحق افراد میں 5 خواتین اور 3 بچے بھی شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔
سلامتی کونسل کے بیان میں ان دہشت گرد حملوں کو ’’گھناؤنا اور بزدلانہ‘‘ قرار دیا گیا۔ پاکستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملوں کے تناظر میں یہ بیان سلامتی کونسل کے صدر اور برطانیہ کے ناظم الامور جیمز کریوکی کی جانب سے جاری کیا گیا۔
بیان میں سلامتی کونسل کے ارکان نے متاثرین کے خاندانوں، حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، جبکہ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا گیا۔
سلامتی کونسل نے اس امر کی توثیق کی کہ دہشت گردی اپنی تمام اقسام اور مظاہر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔ ارکان نے زور دیا کہ ان دہشت گرد کارروائیوں کے مرتکبین، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
بیان میں تمام ریاستوں پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق حکومتِ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
سلامتی کونسل نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی، اس کے محرکات کچھ بھی ہوں، جہاں بھی، جب بھی اور جس کی جانب سے بھی کی جائے، وہ مجرمانہ اور ناقابلِ جواز ہے۔ ارکان نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تمام ریاستیں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون، بشمول بین الاقوامی انسانی حقوق، مہاجرین کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق دہشت گردی سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔