اسرائیل نواز مودی سرکار کا اصل چہرہ بے نقاب، فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے پر برطانوی سیاح ملک بدر
نئی دہلی/راجستھان — دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار بھارت کی اسرائیل نواز مودی حکومت ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جہاں فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے پر برطانوی سیاح جوڑے کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق 21 جنوری کو بھارت پہنچنے والا برطانوی سیاح جوڑا، لیوس گیبریل ڈی اور انیوشی ایما کرسٹین، نے مختلف تاریخی اور سیاحتی مقامات پر فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھائی۔ ریاست راجستھان کے تاریخی شہر پُشکر میں انہوں نے اسرائیل مخالف اسٹیکرز چسپاں کیے، جن پر ’’فلسطین کو آزاد کرو‘‘ اور ’’بائیکاٹ اسرائیل‘‘ کے نعرے درج تھے جبکہ بعض اسٹیکرز پر فلسطینی پرچم بھی موجود تھا۔
یاد رہے کہ پُشکر بھارت کا ایک معروف سیاحتی مقام ہے جو اسرائیلی شہریوں میں خاصی مقبولیت رکھتا ہے، جہاں سالانہ تقریباً 10 ہزار اسرائیلی سیاح آتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق اس وقت بھی لگ بھگ 2 ہزار اسرائیلی شہری اس علاقے میں مقیم ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق کسی اسرائیلی شہری کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کرائی گئی جس پر راجستھان پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ برطانوی سیاحوں نے سیاحتی ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی سرگرمی میں حصہ لیا۔ اگرچہ ان کے خلاف کوئی باضابطہ مقدمہ درج نہیں کیا گیا، تاہم پولیس نے انہیں تنبیہ کی کہ سیاحتی ویزا پر سیاسی اظہار کی اجازت نہیں ہوتی۔
برطانوی سیاحوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر ان سے کسی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں، اس کے باوجود ریاستی کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (CID) نے ان کے ویزے منسوخ کرتے ہوئے ’’لیو انڈیا‘‘ کا نوٹس جاری کر دیا اور فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت دی۔
اس واقعے نے ایک بار پھر بھارت میں آزادیِ اظہار اور دوہرے معیار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں انسانی حقوق اور فلسطین کے حق میں آواز اٹھانا جرم بنا دیا گیا ہے۔