ورلڈ حجاب ڈے پر نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کی پوسٹ تنازع کا شکار، ایران کی صورتحال نظرانداز کرنے پر شدید تنقید
نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کو ورلڈ حجاب ڈے کے موقع پر حجاب کو عقیدت، شناخت اور فخر کی علامت قرار دینے والی سرکاری پوسٹ پر شدید عوامی اور عالمی تنقید کا سامنا ہے۔ یہ پوسٹ میئر کے دفتر برائے امورِ مہاجرین کی جانب سے شیئر کی گئی تھی، جسے ایران میں لازمی حجاب کے خلاف جاری احتجاج اور خواتین پر ہونے والے کریک ڈاؤن کے تناظر میں غیر حساس قرار دیا جا رہا ہے۔
پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ آج دنیا بھر کی اُن مسلم خواتین اور بچیوں کے عقیدے، شناخت اور فخر کا جشن منایا جا رہا ہے جو حجاب پہننے کا انتخاب کرتی ہیں، اور حجاب کو عقیدت کی ایک طاقتور علامت اور مسلم ورثے کی نمائندگی قرار دیا گیا۔
تاہم سماجی کارکنوں، انسانی حقوق کے مبصرین اور صحافیوں نے اس مؤقف پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس پیغام میں ایران میں خواتین کو درپیش زمینی حقائق کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے، جہاں حجاب نہ پہننے پر خواتین کو گرفتاری، تشدد اور حتیٰ کہ ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایرانی نژاد امریکی صحافی اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن مسیح علی نژاد نے میئر ظہران ممدانی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں ورلڈ حجاب ڈے منانا انتہائی تکلیف دہ ہے، جب ایران میں خواتین حجاب اور اس کے پیچھے موجود نظریے کو مسترد کرنے پر قید، گولیوں اور موت کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس پوسٹ کو شرمناک قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ پیغام ایران میں جابرانہ اقدامات پر خاموشی کے مترادف ہے۔
فرانسیسی مصنف اور سماجی کارکن برنارڈ ہنری لیوی نے بھی پوسٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں حجاب کا جشن منانا نہ صرف نامناسب بلکہ متاثرہ خواتین کے دکھوں سے لاعلمی کا اظہار ہے۔ ترک نژاد امریکی ماہرِ معاشیات اور سیاسی مفکر تیمور کوران نے بھی اس پیغام کو کئی حوالوں سے غیر متوازن اور غیر حساس قرار دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تنازع ظہران ممدانی کے ماضی کے بیانات کے برعکس سامنے آیا ہے، جن میں وہ اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس انہوں نے بتایا تھا کہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد ان کی خالہ نے حجاب پہننے کے باعث خود کو غیر محفوظ محسوس کیا اور سب وے میں سفر ترک کر دیا تھا، جبکہ سیاست میں قدم رکھنے پر انہیں اپنے مذہبی عقیدے کو نجی رکھنے کا مشورہ بھی دیا گیا تھا۔
اس حالیہ ردِعمل نے ایک بار پھر عالمی سطح پر مذہبی آزادی، خواتین کے حقوق اور ریاستی جبر کے درمیان پیچیدہ مباحث کو نمایاں کر دیا ہے۔