ایران اور امریکا کے بالواسطہ جوہری مذاکرات کا پہلا دور مکمل، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق
تہران — ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر ہو گیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک نے آئندہ تاریخ میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مذاکرات کے بعد جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والی بات چیت ایک اچھی شروعات ثابت ہوئی ہے اور جوہری مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے دونوں فریقین کے درمیان مفاہمت پائی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران دونوں جانب سے اپنے خیالات اور تحفظات ایک دوسرے تک پہنچائے گئے، جبکہ مذاکراتی وفود مشاورت کے لیے اپنے اپنے ممالک واپس جائیں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق بات چیت کا عمل آئندہ بھی جاری رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ پائی جانے والی بے اعتمادی کی دیوار کو عبور کرنا ناگزیر ہے، تاہم ایران اپنے یورینیم افزودگی کے جائز حق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات کا مقصد باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار حل تک پہنچنا ہے، جس کے لیے سفارتی عمل کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔