تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت: چین نے ٹرمپ کے ممکنہ دورۂ بیجنگ کو خطرے سے خبردار کر دیا
چین نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا متوقع دورۂ چین شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف چین۔امریکا تعلقات میں سنجیدہ رکاوٹ بنیں گے بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا تائیوان کو تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے پر غور کر رہا ہے، جس میں جدید اور اہم دفاعی نظام شامل ہیں۔ اس منصوبے پر چین نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب صدر ٹرمپ کے اپریل میں چین کے ممکنہ دورے کی خبریں زیرِ گردش ہیں۔
چینی حکام نے کہا ہے کہ امریکا کو تائیوان کے حساس معاملے پر انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے، بصورت دیگر دوطرفہ تعلقات میں سنگین مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں خبردار کیا کہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت جیسے اقدامات باہمی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
بیجنگ کا مؤقف ہے کہ تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے اور کسی بھی غیر ملکی طاقت کی جانب سے اسلحے کی فروخت چین کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔ چین نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ تائیوان سے متعلق معاملات میں بیرونی مداخلت ناقابلِ قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔