جاپان: وزیرِاعظم سانیے تاکائیچی کو تاریخی مینڈیٹ، ایل ڈی پی نے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی

0

ٹوکیو – جاپان کی وزیرِاعظم اور حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کی سربراہ سانیے تاکائیچی نے عام انتخابات میں شاندار اور تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق تاکائیچی کے اتحاد نے پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں واضح برتری کے ساتھ حکومت کو مضبوط مینڈیٹ دلوا دیا۔

ابتدائی نتائج کے مطابق لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے اکیلے ہی 233 نشستوں کی سادہ اکثریت عبور کر لی، جبکہ اتحادی جماعت جاپان انوویشن پارٹی کے ساتھ مل کر دو تہائی اکثریت حاصل کر لی۔ اس کامیابی کے بعد وزیرِاعظم کو قانون سازی اور پالیسی فیصلوں میں غیر معمولی سہولت حاصل ہو گئی ہے۔

سانیے تاکائیچی، جو جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم ہیں، نے گزشتہ سال پارٹی قیادت سنبھالنے کے بعد اپنی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیشِ نظر قبل از وقت انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام نے معاشی اصلاحات، ٹیکس میں کمی اور قومی سلامتی کے مضبوط مؤقف پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

انتخابات سخت سرد موسم میں منعقد ہوئے، جہاں کئی علاقوں میں شدید برفباری کے باوجود ووٹرز بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنز پہنچے۔ یہ جاپان کی سیاسی تاریخ میں فروری کے مہینے میں ہونے والے چند نایاب انتخابات میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

وزیرِاعظم تاکائیچی کے انتخابی منشور میں خوراک پر سیلز ٹیکس کی معطلی، دفاعی اخراجات میں اضافہ اور چین کے مقابل سخت سیکیورٹی پالیسی کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ تاہم ان معاشی وعدوں پر مالیاتی منڈیوں میں کچھ تشویش بھی پائی جا رہی ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ ٹیکس میں کمی کے باعث پیدا ہونے والے مالی خلا کو کیسے پُر کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سانیے تاکائیچی کی کھل کر حمایت کی تھی اور انہیں آئندہ ماہ وائٹ ہاؤس مدعو کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جبکہ چین کی جانب سے ان کی انتخابی کامیابی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس مضبوط مینڈیٹ کے بعد وزیرِاعظم سانیے تاکائیچی جاپان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی میں تیز رفتار اور فیصلہ کن اقدامات کر سکتی ہیں، جن کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.