افغانستان: طالبان کا نیا فوجداری ضابطہ متعارف، عالمی سطح پر شدید تشویش

0

کابل – افغانستان میں طالبان حکومت نے ایک نیا فوجداری ضابطہ متعارف کرا دیا ہے، جس پر عالمی ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی جریدے یوریشیا کے مطابق یہ ضابطہ قانون کی آڑ میں ایک ایسے ریاستی نظام کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے جو نظریاتی اطاعت، جبر اور سخت کنٹرول پر مبنی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئے فوجداری ضابطے کے تحت طبقاتی انصاف کو باضابطہ قانونی حیثیت دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مساوی قانونی حقوق اور قانون کی نظر میں برابری کا تصور مزید کمزور ہو گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عدالتی نظام میں امتیاز کو فروغ ملے گا اور عام شہریوں کے لیے انصاف تک رسائی مزید مشکل ہو جائے گی۔

ضابطے میں مذہبی اور سیاسی تنوع کو جرم قرار دینے سے متعلق شقیں بھی شامل کی گئی ہیں، جن کے تحت اختلافِ رائے، آزاد سوچ اور تنقیدی اظہار کے لیے گنجائش نمایاں طور پر محدود ہو گئی ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق یہ شقیں آزادیٔ اظہار، سیاسی سرگرمیوں اور اقلیتی حقوق پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔

عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کا یہ نیا قانونی ڈھانچہ افغانستان کو مزید تنہائی کی طرف دھکیل سکتا ہے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات میں پیچیدگیاں بڑھا سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس ضابطے پر نظرِ ثانی کی جائے اور افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.