ایرانی پارلیمنٹ کا جوہری مذاکرات پر بند کمرہ اجلاس، وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قانون سازوں کو بریفنگ
تہران – اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کی تازہ صورتحال پر غور کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کا ایک بند کمرہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے شرکت کی اور قانون سازوں کو مذاکراتی عمل پر بریفنگ دی۔
پارلیمنٹ کے پریذائیڈنگ بورڈ کے رکن علی رضا سلیمی کے مطابق یہ غیر عوامی اجلاس ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی موجودہ پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا، جس میں وزیر خارجہ نے اراکین پارلیمنٹ کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔
اجلاس میں ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی بھی شریک تھے، جس سے قومی سلامتی اور دفاعی پہلوؤں کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ تہران اور واشنگٹن نے جمعے کے روز عمان میں جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے۔ ان مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انہیں “اچھی شروعات” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کا تسلسل دارالحکومتوں میں ہونے والی مشاورت پر منحصر ہوگا۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بھی عمان میں ہونے والے حالیہ ایران-امریکہ مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایران دباؤ اور جبر کو مسترد کرتا ہے، تاہم اپنے جوہری پروگرام میں بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرتا رہے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ “بہت اچھی بات چیت” کی ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔